.

یونانی پارلیمان میں فلسطینی ریاست کے حق میں قرارداد منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یونان کی پارلیمان نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے متعلق ایک قرارداد منظور کر لی ہے۔اس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

یونان کی پارلیمان میں منگل کے روز اس قرارداد پر رائے شماری کے وقت فلسطینی صدر محمود عباس بھی موجود تھے۔اس خصوصی اجلاس میں یونان کی تمام پارلیمانی جماعتوں نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

قرارداد میں یونانی حکومت پر زوردیا گیا ہے کہ ''وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے مناسب طریق کار اختیار کرے اور خطے میں قیام امن کے لیے ہر ممکن سفارتی کوشش کرے''۔

اس موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ انھیں فخر ہے کہ وہ یونانی پارلیمان میں موجود ہیں۔انھوں نے پارلیمان کو جمہوریت کی پناہ گاہ قرار دیا اور تمام ارکان کا قرارداد کے حق میں ووٹ دینے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سے فلسطینی ریاست کے قیام میں مدد ملے گی۔

یونانی پارلیمان کے ڈپٹی اسپیکر تاسوس کوراکس نے قرارداد کی منظوری کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔یونانی وزیراعظم الیکس سپراس نے سوموار کو فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ بات چیت کے بعد کہا تھا کہ اب ان کا ملک سرکاری دستاویزات میں فلسطینی اتھارٹی نہیں لکھے گا بلکہ صرف فلسطین لکھے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر محمود عباس کے دورے سے یونان اور فلسطین کے درمیان روایتی تاریخی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ یونان 1967ء کی جنگ سے ماقبل کی سرحدوں کے اندر ایک ایسی قابل عمل ،آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پُرعزم ہے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو اور وہ اسرائیل کے ساتھ پُرامن طور پر رہے۔

ادھر مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں تنظیم آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کے نائب قائد اور فلسطینی اتھارٹی کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات نے یونانی پارلیمان میں قرارداد کی منظوری کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ہمیں امید ہے،یونانی حکومت پارلیمان کے فیصلے کی پیروی کرے گی اور ریاست فلسطین کو سرکاری طور پر تسلیم کر لے گی۔

واضح رہے کہ یونان نے حالیہ برسوں کے دوران فلسطینیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے باوجود اسرائیل کے ساتھ بھی قریبی روابط استوار کیے ہیں اور دونوں ممالک توانائی کے شعبے میں ایک دوسرے سے تعاون کررہے ہیں۔وزیراعظم سپراس نے گذشتہ ماہ اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا دورہ کیا تھا اور فلسطینی صدر محمود عباس اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی تھی۔

واضح رہے کہ اس سال 30 ستمبر کو پہلی مرتبہ نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں فلسطینی پرچم لہرایا گیا تھا۔اس موقع پر صدر محمود عباس نے عالمی ادارے کے تمام رکن ممالک پر زوردیا تھا کہ وہ فلسطین کو تسلیم کریں۔

یاد رہے کہ 2012ء میں فلسطین کو اقوام متحدہ میں مبصر سے بڑھ کر''غیررکن ریاست'' کا درجہ مل گیا تھا۔ امریکا نے سلامتی کونسل میں فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کی مخالفت کی تھی جس کے بعد جنرل اسمبلی میں رائے شماری کے ذریعے اس کا درجہ بڑھانے کی منظوری دی گئی تھی اور اس کو ویٹی کن کی طرح مبصر سے غیر رکن ریاست کا درجہ مل گیا تھا۔

اس سے فلسطین کو بطور ریاست جنرل اسمبلی میں کسی مسئلے پر رائے شماری کے دوران ووٹ دینے کا حق حاصل ہوگیا تھا اور وہ عالمی اداروں میں بھی شمولیت اختیار کرسکتی ہے۔اس کے بعد فلسطین کواقوام متحدہ کے تحت سائنسی ،تعلیمی اور ثقافتی ادارے یونیسکو کی رکنیت مل گئی تھی۔یہ اور بات ہے کہ اس کے ردعمل میں امریکا اور اسرائیل نے پیرس میں قائم اس ادارے کے فنڈز روک لیے تھے۔

فلسطینیوں کا موقف ہے کہ تنازعے کا دو ریاستی حل 1967ء کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہونا چاہیے۔فلسطینی غزہ کی پٹی اور غرب اردن کے علاقوں میں اپنی ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔اس ریاست کا دارالحکومت مقبوضہ مشرقی القدس ہوگا جبکہ اسرائیل مقبوضہ القدس کو اپنا دائمی دارالحکومت قرار دیتا چلا آرہا ہے۔اس نے اس مقدس شہر پر 1967ء کی جنگ میں قبضہ کیا تھا اور بعد میں اس کو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا۔

لیکن عالمی برادری نے مقبوضہ القدس پر اسرائیلی قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔اسرائیل نے مغربی کنارے میں فلسطینی سرزمین پر یہودی آبادکاروں کے لیے بستیوں کی تعمیر جاری رکھی ہوئی ہے لیکن یورپی یونین سمیت عالمی برادری یہودی بستیوں کی تعمیر کو بھی غیر قانونی قراردیتی ہے اور انھیں مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے رہی ہے۔