شامی حکومت پر شہریوں پر کیمیائی حملے کا الزام

دمشق کے نواح میں واقع قصبے پر زہریلی گیس کے حملے میں پانچ افراد کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی کارکنان نے صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز پر دارالحکومت دمشق کے جنوب مغرب میں واقع قصبے معضمية الشام میں زہریلی گیس استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔اس حملے میں پانچ شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس قصبے سے تعلق رکھنے والے کارکنان کے گروپ نے صدر بشارالاسد کے وفادار فوجیوں پر الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے منگل کے روز زہریلے کیمیکل سے معضمية الشام پر حملہ کیا تھا۔

اس گروپ نے فیس بُک پر پوسٹ کی گئی ایک تحریر میں لکھا ہے کہ ''اسد رجیم نے ایک مرتبہ پھر معضمية الشام میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا ہے۔سرکاری فوج کے لڑاکا طیاروں نے قصبے کے جنوب میں بیرل بم گرائے ہیں۔ ان میں نامعلوم مہلک زہریلی گیس ہے۔اس نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور بہت سے دوسروں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے''۔

اس گروپ نے حملے میں متاثر ہونے والے افراد کی ایک فیلڈ اسپتال میں تصاویر اور ویڈیو فوٹیج انٹرنیٹ پر پوسٹ کی ہے۔پس منظر میں خواتین بھی نظر آرہی ہیں۔ان میں سے بعض افراد نے اپنے منھ پر ماسک چڑھا رکھے ہیں۔بعض کے پھیپھڑوں سے ٹیوب کے ذریعے خون کے دھبے ہٹائے جارہے ہیں۔

فوری طور پر آزاد ذرائع سے اس الزام کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔شام کے ایک سکیورٹی ذریعے نے اس کی تردید کی ہے کہ فوج نے اس قصبے میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔انھوں نے اس الزام کو بے بنیاد قراردیا ہے۔

واضح رہے کہ اسی قصبے میں اگست 2013ء میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس کے بعد امریکا اور روس کے درمیان شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کے لیے ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔

اس قصبے میں شامی فوج اور باغیوں کے درمیان فائربندی پر اتفاق ہوا تھا اور اس کے بعد قریباً ایک سال تک وہاں امن رہا تھا لیکن اب چند روز قبل پھر وہاں باغی گروپوں اور شامی فوج کے درمیان لڑائی چھڑ گئی ہے۔برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق قصبے پر شدید گولہ باری کی جارہی ہے اور بیرل بم برسائے جارہے ہیں۔

آبزرویٹری نے شام میں موجود اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ منگل کے روز اس قصبے میں باغی گروپوں سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد سرکاری فوج کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہوگئے تھے۔اس نے زہریلی گیس کے حملے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

استنبول میں قائم شامی قومی اتحاد نے بھی اسد رجیم پر کیمیائی حملے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حملے کے بعد بہت سے افراد کا نظام تنفس متاثرہ ہوا ہے اور انھیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔واضح رہے کہ شامی کارکنان ماضی میں بھی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج پر شہری علاقوں میں کلورین گیس استعمال کرنے کے الزامات عاید کرچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں