.

ایران: اشتہاری وزراء ماہرین کونسل کی رکنیت کے امیدوار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں آئندہ سال فروری میں ہونے والے ماہرین کونسل اور پارلیمنٹ [مجلس شوریٰ] کے انتخابات کی آمد کے قریب آتے ہی ملک میں سیاسی گہما گہمی میں شدت آ گئی ہے۔ ماہرین کونسل جیسے اہم ترین ریاستی ادارے میں قدامت پسند خیالات رکھنے والے شیعہ مذہبی رہ نماؤں کے ساتھ ساتھ چار انٹیلی جنس وزیر بھی اس دوڑ میں شامل ہیں۔ ماہرین کونسل کے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں اور سابق وزراء کا تعلق ایران کی ان اہم شخصیات سے ہے جو ماضی میں عالمی پابندیوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ ان میں سے بعض انٹروپول کو بھی مطلوب ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ماہرین کونسل کے انتخابات میں حصہ لینے والوں میں موجودہ ایرانی انٹیلی جنس وزیر محمود علوی اور اسی وزارت پر ماضی میں خدمات انجام دینے والے تین دوسرے سابق وزراء بھی شامل ہیں۔

سابق انٹیلی جنس وزراء میں 1989ء سے 1997ء تک اس اہم عہدے پر تعینات رہنے والے علی فلاحیان کا نام بھی سر فہرست ہے۔ علی فلاحیان ایران میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور دہشت گردی کے کئی واقعات میں ’’انٹرپول‘‘ کو بھی مطلوب ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ سنہ 1994ء میں انہوں نے ارجنٹائن کے شہر بونس آئرس میں واقع یہودیوں کے ایک مرکز میں بم دھماکے کرائے تھے۔ اس کے علاوہ برلن کے ’’میکونوس‘‘ ریستوران میں کرد لیڈر صادق شرفکندی کو قاتلانہ حملے میں ہلاک کرنے کی ذمہ داری بھی علی فلاحیان پر عاید کی گئی تھی۔

ماہرین کونسل کی رکنیت کے خواہاں سابق انٹیلی جنس وزراء میں علی دری نجف آبادی بھی ہیں جنہیں سنہ 2011ء میں یورپی یونین کی جانب سے پابندیوں کے دائرے میں شامل کیا تھا۔ نجف آبادی پر تہران کے قریب کرج شہر میں واقع ’’کھریزک‘‘ جیل میں قیدیوں کو اذیتیں دینے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ سنہ 1990ء کے عشرے میں کئی ایرانی صحافیوں، دانشوروں اور قلم کاروں کے قتل میں بھی انہیں مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔

ماہرین کونسل کے انتخابات میں حصہ لینے والے متازع ایرانی رہ نماؤں میں سابق انٹیلی جنس وزیر مصطفیٰ بور محمدی بھی شامل ہیں۔ بور محمدی موجودہ حکومت کے وزیر انصاف ہیں اور انٹیلی جنس میں خارجہ امور کے انچارج ہیں۔ انہیں ’’ایفین‘‘ جیل کا قصاب کہا جاتا رہا ہے۔ دوران حراست کئی سیاسی کارکنوں اور رہ نمائوں کو اذیتیں دے کر ہلاک کرنے اور حکومت مخالف رہ نما اور دانشوروں کی ٹارگٹ کلنگ سمیت دوسرے الزامات کے باعث انہیں عالمی سطح پر اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ایران میں انسانی حقوق آبزرویٹری نے ’’موت بانٹے والے وزراء‘‘ کے عنوان سے جاری کردہ رپورت میں سنہ 1988ء سے 1999ء کے عرصے میں انٹیلی جنس وزراء کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی تفصیلات جاری کی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس وزرا بڑی تعداد میں حکومت مخالفین کے قتل عام میں ملوث رہے ہیں۔