.

کیا اخوان المسلمون کا شیرازہ بکھرنے لگا ہے؟

دھڑے بندی نے جماعت کی قیادت اور کارکن جدا کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر سمیت عرب دنیا کی منظم مذہبی سیاسی جماعت اپنی 88 سالہ عمر میں تاریخ کے بدترین دور سے گذر رہی ہے۔ مصر میں زیرعتاب اخوان المسلمون کو جہاں ایک طرف حکومت کی سنگین نوعیت کی پابندیوں کا سامنا ہے وہیں جماعت کی صفوں میں پیدا ہونے والے اختلافات حکومتی پابندیوں سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں جو جماعت کے وجود اور اس کی بقاء کے لیے بھی ایک سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مصر میں اخوان المسلمون کی قیادت اور کارکنوں میں پائے جانے والے اختلافات اور جماعت کے بتدریج بکھرتے شیرازے پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نو عشروں کی عمر میں اخوان المسلمون کی صفوں میں ایسے شدید اختلافات پیدا نہیں ہوئے جتنے کے پچھلے ایک ہفتے کے دوران سامنے آئے ہیں۔

جماعت کی صف اول اور دم کی قیادت اس وقت مصری جیلوں میں پابند سلاسل ہے۔ حکومتی پابندیوں کے باعث اخوان کی سرگرمیاں پہلے ہی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں ایسے میں جماعت میں پیدا ہونے والے اختلافات اس بات کا اشارہ ہیں کہ خوان المسلمون میں ایک بڑی بغاوت پیدا ہونے کو ہے۔ ماضی میں بھی اخوان المسلمون کی صفوں میں اختلافات ابھرتے رہے ہیں مگر حالیہ سفید اانقلاب جماعت کا شیرازہ بکھیر کر رکھ سکتا ہے۔

اخوان المسلمون میں حالیہ ایام میں دو بڑے گروپ سامنے آئے ہیں۔ ایک گروپ قائم مقام مرشد عام محمود عزت جماعت، سیکرٹری جنرل محمود حسین اور بیرون ملک سے جماعت کے شعبہ دعوت و ارشاد کے محمد عبدالرحمان پر مشتمل ہے۔ یہ گروپ جماعت کے زیرحراست مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع سے بھی ہدایات لے رہا ہے۔

جماعت میں دوسرا گروپ شعبہ دعوت وارشاد کے رکن محمد کمال پر مشتمل ہے۔ محمد کمال بھی خود کو اخوان المسلمون کا متبادل خیال کر رہے ہیں۔ اگرچہ وہ مفرور ہیں مصر کی عدالتوں نے ان کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری رکھے ہیں مگر وہ گاہے بہ گاہے بیانات بھی جاری کرتے رہے ہیں۔ محمد کمال کے ساتھ جماعت کی دوسری صف کے کئی رہ نما اور بڑی تعداد میں کارکن شامل ہیں۔ اس گروپ کی میڈیا کوریج جماعت کے سابق ترجمان محمد منتصر کر رہے ہیں۔

جماعت کے منشور کے خلاف بغاوت

محمود حسین گروپ کی جانب سے قائم کردہ جماعت کے ترجمان طلعت فہمی نے اعتراف کیا ہے کہ جماعت میں پھوٹ نوشتہ دیوار ہے۔ کیونکہ جماعت میں تقسیم کی لکیر زیادہ پھیلتی جا رہی ہے۔ جماعت کے اندر سے مطالبات اٹھ رہے کہ اخوان المسلمون کا موجودہ تنظیمی ڈھانچہ ختم کر کے نئے سے تنظیم سازی کی جائے اور جماعت کو دو دھڑوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ اگر اخوان المسملون کی موجودہ حالات میں نئی صف بندی کی جاتی ہے اور اسے دو حصوں میں بانٹا جاتا ہے تو جماعت کی خود کشی ہو گی اور اخوان المسلمون کا شیرازہ مکمل طور پر بکھر کر رہ جائے گا۔ جماعت کی صف اول کی زیرحراست قیادت اس کی کسی صورت میں اجازت نہیں دے گی۔

طلعت فہمی کا کہنا ہے کہ جماعت کی صفوں میں پایا جانے والے اختلافات معمولی نہیں بلکہ اپنے نتائج کے اعتبار سے نہایت سنگین ہے۔ یہ اختلافات جماعت کے منشور، نصب العین اور طریقہ کار سب کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر محمد عبدالرحمان کی زیرقیادت جماعت کی سپریم انتظامی کمیٹی خود کو جماعت کا باضابطہ ترجمان خیال کرتی ہے اور کمیٹی کو محمود عزت اور محمودحسین کی حمایت بھی حاصل ہے۔عملاً یہی کمیٹی میڈٰیا کے نمائندوں سے بھی رابطے میں رہتی ہے۔

طلعت فہمی کا کہنا ہے کہ جماعت کی صفوں میں پھوٹ کوئی نیا اور تازہ واقعہ نہیں بلکہ سنہ 2014ء سے جماعت میں بڑے پیمانے پر اختلافات سامنے آنا شروع ہو گئے تھے۔ یہ اختلافات اس وقت شدت اختیار کر گئے تھے جب جماعت کےشعبہ دعوت ارشاد کے آٹھ میں سے 6 ارکان بیرون ملک سے مقرر کیے گئے تھے۔

اخوان المسلمون میں دھڑے بندی کے دیگر اسباب کے بارے میں طلعت فہمی نے کہا کہ جماعت کی قیادت کے جیلوں میں ڈالے جانے سے بھی باہر موجود کارکنوں اور رہ نماؤں میں بغاوت کے جراثیم نے جنم لیا۔ انہوں نے موقع دیکھتے ہی جماعت کی مرضی کے مطابق توڑپھوڑ شروع کی اور جماعت کی قیادت اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے پر تولنے لگے ہیں۔

بیرون ملک اخوان کے دفاتر تحلیل

محمود عزرت کی وفادار اخوان المسلمون کی سپریم انتظامی کمیٹی کے عہدیدار محمد عبدالرحمان مرسی نے اندرون اور بیرون ملک جماعت میں دھڑے بندی کرنے والے کئی رہ نماؤں کے زیرنگرانی کام کرنے والے دفاتر بند کرنے کا فیصلہ کر کے جماعت کو بچانے کی کوشش کی ہے مگران کی یہ کوشش بھی بار آور ثابت ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

عبالرحمان المرسی نے اندرون اور بیرون ملک جن اہم رہ نماؤں کے دفاتر بند کیےان میں ڈاکٹر احمد عبدلرحمان،عمر دراج، یحییٰ حامد، حسین القزاز، جمال حشمت، اسامہ سلیمان، طاھر عبدالمحسن، ایمن عبدالغنی اور محمد البشلاوی شامل ہیں۔

عبدالرحمان المرسی نے جماعت کے ان تمام رہ نماؤں سے پرزور اپیل کی کہ وہ جماعت کی صفوں میں پھوٹ ڈالنے سے گریز کریں اور محمد بدیع کی قیادت میں جماعت کے ساتھ وفاداری کا مظاہرہ کریں۔ ان کی عدم موجودگی میں قائم مقام مرشد عام کی حیثیت سے محمود عزت کی اطاعت کریں۔