.

شام جنیوا امن مذاکرات میں شرکت کے لیے تیار

ڈائیلاگ سے قومی اتحاد کی حکومت کے قیام میں مدد ملے گی: ولید المعلم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام نے جنیوا امن مذاکرات میں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔شامی وزیر خارجہ ولید المعلم کا کہنا ہے کہ اس ڈائیلاگ کے نتیجے میں ملک میں قومی اتحاد کی حکومت کے قیام میں مدد ملے گی۔

ولیدالمعلم بیجنگ میں چینی وزیرخارجہ وانگ یائی سے بات چیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''شام جنیوا میں صرف شامیوں کے درمیان کسی بیرونی مداخلت کے بغیر مذاکرات میں شرکت کے لیے تیار ہے اور جونہی ہمیں حزبِ اختلاف کے وفد کی ایک فہرست ملے گی ،ہمارا وفد تیار ہوگا''۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ''اس ڈائیلاگ سے قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل میں مدد ملے گی۔یہ حکومت ایک آئینی کمیٹی تشکیل دے گی جو شام کا ایک نیا آئین مرتب کرے گی اور نئے انتخابی قوانین وضع کرے گی تاکہ آیندہ اٹھارہ ماہ کے دوران پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ممکن ہوسکے''۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گذشتہ جمعہ کو شام امن عمل سے متعلق ایک بین الاقوامی نقشہ راہ کی توثیق کی تھی اور یہ پہلا موقع تھا کہ تمام بڑی طاقتوں نے شام میں جاری تنازعے کے حل کے لیے اتفاق کیا تھا۔اقوام متحدہ اب جنوری کے آخر میں جنیوا میں امن مذاکرات بلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس قرارداد میں ویانا میں شامی بحران کے حل کے لیے طے شدہ منصوبے کی توثیق کی گئی ہے ۔اس منصوبے میں جنگ بندی ،شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان براہ راست مذاکرات اور دوسال کے عرصے میں عام انتخابات کے انعقاد پر زور دیا گیا ہے۔

لیکن برسرزمین جنگ کا خاتمہ اس تمام عمل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ تنازعے کا کوئی بھی فریق جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور اقوام متحدہ میں سمجھوتے کے باوجود بڑی طاقتوں کے درمیان صدر بشارالاسد کے مستقبل اور شامی حزب اختلاف کی مذاکرات میں نمائندگی کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔