.

بیت لحم میں تشدد کے سائے میں کرسمس کی پھیکی تقریبات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر کی طرح عیسائی برادری کے ہزاروں افراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش غربِ اردن کے شہر بیت لحم میں ان کا یومِ ولادت (کرسمس) منا رہے ہیں۔

لیکن غربِ اردن میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد کے حالیہ واقعات کے تناظر میں کرسمس کی تقریبات میں روایتی جوش وخروش نظر نہیں آرہا ہے۔بیت لحم میں کرسمس کے لیے آنے والوں کی تعداد بھی گذشتہ برسوں کے مقابلوں میں کہیں کم ہے اور ہوٹلوں کے کمرے بھی گذشتہ سال کے مقابلے میں 25 فی صد کم بُک ہوئے ہیں۔

بیت لحم کے مینجراسکوائر میں کرسمس کی سالانہ تقریبات کے لیے سب سے بڑا اجتماع منعقد ہوا ہے اور وہاں ہزاروں عیسائی جمع ہوئے ہیں جبکہ شہر کے دوس؛6رے حصوں میں تقریبات منسوخ کردی گئی ہیں یا ان میں روایتی جوش وخروش نظر نہیں آیا ہے۔

کارن وال انگلینڈ سے بیت لحم میں کرسمس کی تقریبات میں شرکت کے لیےآنے والے پال ہینز کا کہنا ہے کہ ''یہاں روشنیاں تو ہیں،گیت گائے جارہے ہیں لیکن کشیدگی کا احساس بھی پایا جارہا ہے''۔

بیت لحم میں گذشتہ تین ماہ کے دوران اسرائیلی فوجیوں اور فلسطینی مظاہرین کے دوران وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔جمعرات کو اس شہر میں صورت حال پُرامن رہی تھی۔البتہ غرب اردن کے دوسرے علاقوں میں تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں اور اسرائیلی فوجیوں نے فائرنگ کرکے تین فلسطینیوں کو شہید کردیا تھا۔ان پر الزام عاید کیا گیا تھا کہ انھوں نے یہودیوں کو چاقو گھونپنے یا کار چڑھانے کی کوشش کی تھی۔ایک اور فلسطینی اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہوگیا ہے۔