.

روسی بمباری میں اسد مخالف جنگجو زھران علوش ہلاک

جیش الاسلام کا سربراہ دمشق کے مضافات میں خفیہ ٹھکانے پر حملے میں ہلاک ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والی تنظیم جیش الاسلام کے کمانڈر انچیف زھران علوش جنوبی دمشق میں جمعہ کے روز روسی لڑاکا طیاروں کی بمباری میں ہلاک ہو گئے۔

شامی اپوزیشن ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' کو بتایا کہ زھران علوش دمشق کے مضافاتی علاقے میں اپنے ہیڈکوارٹرز پر فضائی حملے میں ہلاک ہوئے۔

شامی رضاکاروں نے بتایا کہ روسی لڑاکا طیاروں سے داغے جانے والے 10 میزائل اس عمارت پر گرے جن میں زھران علوش، جیش الاسلام کے ترجمان اور زھران کے نائب سمیت تنظیم کے دیگر کمانڈر موجود تھے۔

شام کے سرکاری میڈیا نے دمشق کے مضافات میں علوش اور جیش الاسلام کی قیادت کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔

ذرائع نے 'رائیٹرز' کو بتایا کہ علاقے میں اپوزیشن کی سب سے بڑی مسلح تنظیم جیش الاسلام کے خفیہ ٹھکانے کو روسی لڑاکا طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ جیش الاسلام کے ہزاروں جنگجو بشار الاسد حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد میں مصروف ہیں۔