.

مصری وکیل حسنی مبارک کو مردہ قرار دینے پر مُصِر کیوں؟

عدالت نے سابق صدر کے ڈیٹھ سرٹیفکیٹ کی درخواست مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سنہ 2011ء میں عوامی انقلاب کے نتیجے میں اقتدار سے محروم ہونے والے سابق مصری صدر حسنی مبارک شہریوں کے قتل اور بدعنوانی سمیت کئی مقدمات کا سامنا تو کر رہے ہیں مگر انہیں ایک ایسے کیس کا بھی سامنا ہے جس پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔

مصر کے ایک وکیل کا دعویٰ ہے کہ حسنی مبارک سنہ 2004ء میں وفات پا چکے تھے، جس شخص کو حسنی مبارک قرار دے کر مقدمہ چلایا جا رہا ہے وہ اصل حسنی مبارک ہر گز نہیں بلکہ ان کے ایک ہم شکل ہیں جنہیں مصری حکومت نے اصل صدر کی وفات کے بعد ان کی جگہ متعین کیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایڈووکیٹ حامد صدیق نامی وکیل نے قاہرہ کی ایک انتظامی عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں فاضل عدالت سے اپیل کی گئی کہ وہ سابق صدر حسنی مبارک کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کا ڈیٹھ سرٹیفکیٹ جاری کرے تاہم عدالت نے حامد صدیق کے دعوے کو 'بے ہودہ' قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔

حامد صدیق نے اپنے درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ حسنی مبارک جون 2004ء کو 76 سال کی عمر میں مثانے کے کینسر اور کان میں انفیکشن کے باعث انتقال کر گئے گئے تھے مگر اس وقت کی حکومت نے صدر کی وفات کی خبر کو خفیہ رکھا۔ حسنی مبارک کی جگہ ان کا ایک ہم شکل تیار کیا گیا جسے ایک نمائشی صدر کے طور پر ایوان صدر میں بٹھایا گیا تھا۔

حامد صدیق نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کی درخواست پر اصل حسنی مبارک اور ان کے صاحبزادوں جمال اور علاء مبارک کا ڈی این اے کرایا جائے۔ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو اس کا دعویٰ سچ ثابت ہو گا۔

حامد صدیق نے القرن شہر کی عدالت کے فاضل جج احمد رفعت کے سامنے بھی حسنی مبارک کے خلاف بغاوت کے دوران شہریوں کے قتل کے مقدمہ کی سماعت کے موقع پر یہی موقف اختیار کیا تھا۔ اس وقت حسنی مبارک بھی وہیل چیئر پر کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ حامد صدیق نے دعویٰ کیا کہ عدالت میں پیش کیا گیا شخص اصل حسنی مبارک نہیں۔ اس پر حسنی مبارک بھی مسکرا دیے تھے۔ تاہم جسٹس احمد رفعت نے بھی اس کا دعویٰ مسترد کر دیا تھا۔