.

عراقی افواج اور داعش کی رمادی میں شدید لڑائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوجی ہفتے کے روز دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' کے جنگجوئوں کے ساتھ رمادی شہر کے قلب میں واقع عراقی حکومت کے سابقہ دفاتر میں لڑائی میں مصروف ہیں۔

منگل کے روز ایک بڑے حملے کے تحت عراقی افواج رمادی میں داعش کے دفاع کو توڑنے میں کامیاب ہوگئی تھیں مگر انہیں اس کے باوجود ان کی پیش قدمی میں کئی رکاوٹیں حائل تھیں۔

اب اگرچہ جلد فتح کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں مگر اس کے باوجود عراق کی ایلیٹ انسداد دہشت گردی سروس اور بری فوج کے اہلکار اب عراق کے تباہ حال صوبے الانبار کے دارالحکومت کی جانب مسلسل پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

عراقی پولیس کے ایک کیپٹن احمد الدلیمی کا کہنا تھا "ابھی میدان جنگ میں داعش اور عراق فوج کے درمیان گھمسان کی جنگ کی جاری ہے۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ اس لڑائی کے نتیجے میں عراقی سیکیورٹی فورسز کے کم ازکم دو افراد ہلاک اور نو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

سیںئر اہلکاروں اور مقامی افسران کے مطابق جمعہ کے روز تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ داعش کے نقصانات اس سے کہیں زیادہ ہیں جن میں 23 جنگجو صرف جمعہ کے روز ہی مارے گئے۔

وسطی رمادی میں موجود داعش کے جنگجوئوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 400 تھی۔ عراقی فوج کی پیش قدمی میں فضائی مدد فراہم کرنے والے امریکی اتحاد کے ترجمان کرنل سٹیو وارین کا کہنا تھا کہ عراقی افواج کامیابی سے پیش قدمی میں مصروف ہیں۔

حکومتی فورسز کے اس آپریشن میں سستی کی وجہ یہ بھی ہے کہ میدان جنگ کے پاس درجنوں خاندان پھنسے ہوئے ہیں اور داعش انہیں بطور ڈھال استعمال کر رہی ہے۔

حکومتی افواج نے داعش کے رمادی پر حملوں کو مئی 2015ء تک روکے رکھا تھا مگر اس کے بعد داعش کی جانب سے خودکش حملوں کا ایک بڑا وار کیا گیا جس کے نتیجے میں شہر کو خالی کرنا پڑا۔

رمادی پر داعش کا قبضہ، داعش کے خلاف جنگ میں بغداد کی سب سے بڑی ہار سمجھا جاتا تھا اور اب اس کے خلاف پیش قدمی عراقی افواج کے مورال کے لئے بہتر ثابت ہوگی۔