.

الرمادی: داعش کے زیرقبضہ سرکاری کمپلیکس کا محاصرہ

عراقی فوج مغربی شہر میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں فتح کے قریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی مسلح فورسز نے مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت الرمادی میں داعش کے زیر قبضہ آخری سرکاری کمپلیکس کا محاصرہ کر لیا ہے۔عراقی فورسز کی مشترکہ آپریشنز کمان کے ترجمان یحییٰ رسول کا کہنا ہے کہ ''ہم اس کمپلیکس میں داخل ہوا ہی چاہتے ہیں''۔

انھوں نے اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم کمپلیکس کے آس پاس کی عمارتوں اور شاہراہوں کو بموں سے کلیئر کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ ہم سرکاری عمارت میں داخل ہوسکیں اور توقع ہے کہ ہم گھنٹے دو گھنٹے میں کمپلیکس کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوجائیں گے''۔

عراقی فوج کا الرمادی پر دوبارہ قبضہ ہوجاتا ہے تو یہ داعش کے خلاف جنگ میں اس کی ایک بڑی اور اہم کامیابی ہوگی۔داعش نے مئی میں الرمادی پر قبضہ کیا تھا اور وہاں سے عراقی سکیورٹی فورسز کے اہل کار شکست کے بعد بھاگ گئے تھے۔

داعش کے خلاف جنگ میں عراقی فورسز کی قیادت کرنے والے انسداد دہشت گردی یونٹوں کے ترجمان صباح النعمانی نے کہا ہے کہ ''بظاہر لگتا ہے داعش کے جنگجو کمپلیکس سے راہ افرار اختیار کر چکے ہیں اور ہمیں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں ہے۔ہم اس کمپاؤنڈ میں داعش کے جنگجوؤں کی بڑی تعداد میں لاشیں دیکھ رہے ہیں جو فضائی حملوں میں مارے گئے تھے''۔

عراق کی سرکاری فوج کو داعش کے خلاف جنگ میں امریکا کی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد حاصل ہے۔تاہم عراقی حکومت نے ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کو الرمادی میں داعش کے خلاف جنگ میں نہیں اتارا ہے تا کہ اس شہر پر قبضے کے لیے لڑائی اور اس کے بعد کسی قسم کی فرقہ وارانہ کشیدگی سے بچا جا سکے۔

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ اگر اس سُنی اکثریت شہر پر فوج کا کنٹرول ہوجاتا ہے اور وہاں سے داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کیا جاتا ہے تو پھر اس کا کنٹرول مقامی پولیس اور سنی قبائلی فورس کے حوالے کردیا جائے گا۔الرمادی کے بعد عراقی فوج داعش کے زیرقبضہ شمالی شہر موصل کو بازیاب کرانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔عراق اور شام میں یہ داعش کے زیر قبضہ سب سے بڑا شہری مرکز ہے۔

اگر عراقی فوج امریکا کی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد سے داعش کو موصل سے نکال باہر کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس طرح وہ عراق میں داعش کے ریاستی ڈھانچے کو بھی تہس نہس کرسکے گی اور سخت گیر جنگجو تیل کی فروخت اور محصولات کی مد میں اکٹھی ہونے والی رقوم سے بھی محروم جائیں گے۔