.

ترک صدر کا مشرقِ وسطیٰ میں فرقہ وارانہ تقسیم پر انتباہ

ترکی کےایران کے ساتھ اختلافات ہیں،مگر ہم تعلقات میں رخنہ نہیں ڈالنا چاہتے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کو فرقہ وارانہ بنیاد تقسیم کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔انھوں نے خطے کے تمام ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ اس فرقہ وار سازش کا مقابلہ کرنے کے لیے آگے آئیں۔

انھوں نے العربیہ کی میزبان منتهى الرمحيی کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ''ترکی اور ایران کے درمیان علاقائی امور کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن میں نہیں چاہتا کہ یہ اختلافات ہمارے اچھے ہمسائیگی کے تعلقات پر اثر انداز ہوں۔فرقہ واریت کی وجہ سے ہمیں ایک دوسرے کا دشمن نہیں بننا چاہیے اور اسلام ہی ہمارا حوالہ ہونا چاہیے''۔

رجب طیب ایردوآن نے کہا کہ '' دنیا ہمیں تقسیم کرنے کے لیے کوشاں ہے،ہمیں اس کے مقابلے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔عراق ،شام ،فلسطین اور لیبیا میں جو کچھ ہورہا ہے،اس کی جانب دیکھیے۔ہمیں ان مسائل پر قابو پانا ہوگا اور اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اسلامی دنیا مزید طاقت ور ہوجائے گی''۔

عراق میں ترکی کی موجودگی

عراق میں جاری بحران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ترک فورسز اس وقت شمالی شہر موصل کے نزدیک بعشیقہ کیمپ میں عراقیوں کو تربیت دے رہی ہیں۔وہ عراقی حکام کی درخواست اور ان کے علم کے بعد وہاں گئے تھے۔تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ عراق میں تعینات ان فورسز کو کب واپس بلایا جائے گا۔

صدر طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ''عراق اور ترکی کے درمیان اچھے تعلقات ہیں اور ہم نے وزیراعظم حیدر العبادی کے ترکی کے دورے کے موقع پر عراق میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا تھا''۔

انھوں نے بتایا کہ ''جب داعش عراق میں داخل ہوئے تھے تو عراقیوں نے ہمیں مدد کے لیے کہا تھا تو ہم نے جواب میں انھیں بتایا تھا کہ ہم یہ مدد دینے کو تیار ہیں۔ہم نے ان سے یہ کہا کہ ہمیں عراق میں اپنا اڈا بنانے کے لیے کوئی مناسب جگہ دی جائے تو انھوں نے ایسے ہی کیا ۔یہ سب کچھ گذشتہ سال کے آخر میں ہوا تھا اور مارچ میں ہمیں بعشیقہ کا علاقہ فوجی اڈا قائم کرنے کے لیے دیا گیا تھا''۔

انھوں نے العربیہ کو بتایا کہ ''عراقی وزیر دفاع نے اس تربیتی کیمپ کا دورہ کیا تھا لیکن بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ شام میں ہونے والی پیش رفت کے عراق میں اثرات مرتب ہوئے ہیں۔شام ،ایران ،عراق اور روس نے بغداد میں ایک چار فریقی اتحاد قائم کیا تھا اور ترکی کو بھی اس میں شمولیت کی دعوت دی تھی لیکن میں نے روسی صدر ولادی میر پوتین پر واضح کیا تھا کہ ''میں ایک ایسے صدر کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا جس کی قانونی حیثیت قابل اعتماد نہیں ہے''۔

منتهى الرمحيی کے ساتھ ترک صدر کا یہ مکمل انٹرویو سعودی عرب کے معیاری وقت کے مطابق اتوار کی شام سات بجے ( گرینچ معیاری وقت 16:00 بجے) نشر کیا جارہا ہے۔