.

اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے دو فلسطینی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس کے نزدیک اسرائیلی فوجیوں نے فائرنگ کرکے دو فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔

تشدد کا یہ تازہ واقعہ اتوار کو نابلس شہر کے نزدیک واقع گاؤں حوارا میں پیش آیا ہے۔اسرائیلی فوج نے ان فلسطینیوں پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے ایک فوجی کو چاقو گھونپ کر زخمی کردیا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''اس جگہ پر موجود فورسز نے یقینی خطرے کے پیش نظر حملہ آوروں کی جانب فائرنگ کردی جس سے ان کی موت واقع ہوگئی ہے۔ابتدائی تفتیش کے مطابق حملہ آوروں کی جانب فائرنگ سے ایک اور اسرائیلی فوجی زخمی ہوگیا ہے۔

دوسری جانب فلسطین کی وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا ہے کہ دونوں شہید نوجوان آپس میں رشتے دار تھے اور ان کی عمریں سترہ اور تییس سال تھیں۔

قبل ازیں آج مقبوضہ بیت المقدس کے مرکزی بس اسٹیشن پر ایک فلسطینی نے مبینہ طور پر چاقو سے وار کرکے ایک اسرائیلی فوجی کو زخمی کردیا تھا۔تاہم اس حملہ آور پر ایک سکیورٹی محافظ نے قابو پا لیا تھا اور اس کو پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی یکم اکتوبر سے جاری کارروائیوں میں ایک سو تیس فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ان میں اکاسی کے بارے میں اسرائیلی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر حملہ آور تھے اور ان کے چاقو حملوں اور گاڑیوں کو راہ چلتے راہ گیروں پر چڑھانے سے بیس اسرائیلی اور ایک امریکی شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی فورسز مبینہ طور پر چاقو حملے کرنے والے فلسطینی نوجوانوں کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کررہی ہیں اور اسرائیلی فوجی معمولی سا شک گزرنے پر بھی فلسطینی مرد وخواتین کو سر یا سینے میں گولی مار کر موت کی نیند سلا دیتے ہیں اور پھر ان پر چاقو حملہ آور ہونے کا الزام عاید کردیا جاتا ہے۔

تشدد کے ان واقعات کے بعد سے غربِ اردن کے شہروں اور قصبوں میں کشیدگی پائی جارہی ہے۔اسرائیلی فورسز کی نہتے فلسطینیوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں کے پیش نظر اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صہیونی قبضے کے خلاف نئی انتفاضہ تحریک شروع ہو سکتی ہے۔نوجوان فلسطینی مبینہ طور پر اسرائیل کی چیرہ دستیوں اور مظالم کے خلاف ہر طرف سے مایوسی کے عالم میں قابض فوجیوں پر چاقوؤں سے حملے کررہے ہیں اور اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔