داعش اور القاعدہ سے وابستہ 23 خواتین کا ٹرائل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں حکومتی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ شدت پسند گروپوں دولت اسلامی ’’داعش‘‘ اور القاعدہ سے وابستگی رکھنے والی تئیس خواتین کے خلاف عدالتی کارروائی جاری ہے۔ شدت پسندی کی طرف مائل خواتین میں سے بیشتر کا تعلق سعودی عرب ہی سے ہے جب کہ بعض دوسرے ملکوں سے بھی تعلق رکھتی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد دہشت گردی کے الزامات کی مزید تحقیقات کے لیے ان کے مقدمات فوج داری عدالتوں میں منتقل کیے گئے ہیں۔

حکومتی ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ پچھلے دو سال سے سعودی عرب کی فوج داری عدالتیں دہشت گردی میں ملوث خواتین کے خلاف تحقیقات کر رہی ہیں۔ اسی نوعیت کے ایک مقدمہ میں ریاض کی ایک خصوصی عدالت ھیلہ القصیر المعروف’’مس القاعدہ‘‘ کو پندرہ سال قید کی سنائی جا چکی ہے۔

اکتوبر 2015ء کو سعودی عرب میں داعش سے وابستہ خواتین کے خلاف تحقیقات کے لیے ایک خصوصی ٹریبونل قائم کیا گیا تھا۔ اس عدالت نے 27 سالہ خاتون جنگجو ’’صاحبہ معرف‘‘ المعروفہ ام اویس کے خلاف مقدمہ کی کارروائی شروع کی۔ ام اویس کا عدالتی ٹرائل اس وقت شروع کیا گیا جب اس نے داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی کے ہاتھ پرغائبانہ بیعت کا اعلان کیا۔ اس سے قبل وہ داعش کو میڈیا کے ذریعے اپنی حمایت کا یقین دلانے کے ساتھ ساتھ تنظیم کی لاجسٹک اسپورٹ بھی کر چکی ہے۔

سعودی پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے ام اویس کے خلاف تیار کردہ فرد جرم میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ماسٹر کلاس تک تعلیم حاصل کرنے والی سعودی خاتون نے داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی کی بیعت کی اور ساتھ ہی ساتھ سوشل میڈیا پر داعش اور النصرہ فرنٹ کی حمایت میں مہم بھی چلاتی رہی ہے۔ ام اویس پرعاید کردہ الزامات میں ایک الزام یہ ہے کہ اس نے جیل میں قید ایک جنگجو کی بھی مدد کی تھی۔ علاوہ ازیں اس نے سعودی عرب کی جیلوں میں قید داعشی اور القاعدہ خواتین کی رہائی کے حوالے سے 10 ویڈیو تیار کی اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ بعد ازاں وہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر مشتہر کی گئیں۔

رواں سال دسمبر میں سعودی عرب کی ایک فوج داری عدالت نے داعش سے تعلق کے الزام میں ایک نوجوان لڑکی کے خلاف تحقیقات شروع کیں۔ پچیس سالہ خاتون جنگجو سعودی عرب میں داعش کی حمایت میں سوشل میڈٰیا مہم چلاتی رہی ہے۔ اس نے بھی داعشی خلیفہ ابوبکر البغدادی کی غائبانہ بیعت کی اور ابلاغیات کے میدان میں داعش کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے کی تبلیغ کرتی رہی ہے۔

دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ’’المہاجرہ‘‘ کے لقب سے شہرت پانے والی خاتون اپنے بھائی اور ماموں سے متاثر ہوئی۔ دونوں دہشت گردی کے جرائم میں ملوث ہیں اور انہیں خصوصی عدالت سے نو سال قید کی سزا ہو چکی ہے۔

اکتوبر 24ء میں ریاض کی ایک فوج داری عدالت سے پانچ سعودی اور ایک یمنی خاتون کو مجموعی طور پر 33 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس کے علاوہ 39 سالہ خاتون شدت پسند کو 21 الزامات کے تحت 10 سال قید کی سزا ہوئی تھی۔ 29 سالہ ارویٰ البغدادی کا تعلق یمن سے تھا جسے القاعدہ سے وابستگی کی پاداش اور دہشت گردی کی 12 کارروائیوں میں قید کی سزا سنائی گئی۔ 39 سالہ یونیورسٹی کی طالبہ کو آٹھ ئرام میں 8سال قید،38سالہ خاتون کو پانچ جرائم میں چھ سال،28 سالہ یمنی خاتون کو 9 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ یمنی نژاد خاتون اپنے شوہر کے ساتھ افغانستان کا بھی سفر کر چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں