داعش نے موصل میں 837 خواتین موت کے گھاٹ اتار دیں

قتل کی جانے والی عورتوں میں کئی سرکردہ رہ نما شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شدت پسند تنظیم دولت اسلامی ’داعش‘ کے جنگجوؤں نےعراق کے شمالی شہر موصل میں یرغمال بنائی گی 837 خواتین کو نہایت بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ بیشتر خواتین کو داعش کی شرعی عدالت کے حکم پر گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔

خیال رہے کہ موصل آبادی کے اعتبار سے عراق کا دوسرا بڑا شہر ہے جس پر پچھلے سال جون میں داعشی شدت پسندوں نے قبضہ کر لیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراق کے نینویٰ گورنری کے ہیڈ کواٹر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں داعشی دہشت گردوں کے ہاتھوں نہتی خواتین کے وحشیانہ قتل عام کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ نینویٰ پولیس چیف ذنون السبعاوی کا کہنا ہے کہ فورینزک میڈیکل سینٹر کی رپورٹ میں موصل شہر کی 837 خواتین کی تصدیق کی ہے جنہیں داعشی دہشت گردوں نے ہلاک کیا ہے۔

السبعاوی نے بتایا کہ بیشتر خواتین کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔ ہلاک کی گئی خواتین کی میتیں پوسٹ مارٹم کے لیے موصل کے فورینزک سینٹر لائی گئیں جہاں ان کی شناخت کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہلاک کی گئی خواتین معاشرے کی سرکردہ رہ نما بھی شامل ہیں جن میں سے بعض نینویٰ بلدیہ کی ارکان اور پارلیمنٹ کی سابق امیدوار بھی ہیں۔ ان کے علاوہ بعض صحافیات، خواتین وکلا، لیڈیز بیوٹیشن اور گھریلو ملازمائیں بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں