.

عراقی فوج نے داعش کو رمادی میں شکست فاش دیدی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج نے دولت اسلامیہ عراق وشام '#داعش' کو #الانبار صوبے کے مرکزی شہر #رمادی میں شکست دے کر شہر کے مرکزی کمپلیکس پر قبضہ کر لیا ہے۔

داعش کے جنگجوئوں نے رمادی پر ماہ مئی میں قبضہ کیا تھا اور یہ ان کی 2015ء کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔ عراقی فوج کی اس شکست کے بعد امریکی حکام نے سنجیدگی سے ایک حکمت عملی کے تحت عراقی افواج کی مدد کی جس میں ٹریننگ، فضائی حملے اور معلومات کا تبادلہ شامل ہے۔

شہر کو ہفتوں تک گھیرے میں لینے کے بعد عراقی فوج نے گذشتہ ہفتے شہر کے وسط میں واقع مرکزی انتظامی کمپلیکس پر قبضہ کرنے کے لئے ایک مہم شروع کی تھی جس میں پورا زور لگا دیا گیا تھا۔

حکومتی فوج کے ترجمان صباح النعمانی کا کہنا تھا کہ "اس کمپلیکس کا کنٹرول سنبھالنے کا مطلب ہے "کہ ہم نے داعش کو رمادی میں شکست دے دی ہے۔ اب اگلا قدم یہی ہو گا کہ شہر بھر میں کلئیرنس آپریشن کے تحت شدت پسند عناصر کو ختم کیا جائے گا۔"

عراق کے سرکاری ٹی وی کی جانب سے جاری کردہ ایک وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پیادہ دستے، فوجی گاڑیاں اور ٹینک رمادی کی تباہ حال سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں۔ مسلسل لڑائی اور جھڑپوں کے نتیجے میں شہر کے کچھ علاقے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

ٹی وی پر عراق کے دیگر شہروں میں اس فتح پر منایا جانے والا جشن بھی دکھایا گیا جس میں لوگ سڑکوں پر ناچتے اور گاڑیوں سے عراق کا پرچم لہراتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

سرکاری طور پر ابھی اس آُپریشن میں ہونے والے نقصانات کا اندازہ جاری نہیں کیا مگر حکومتی عہدیداران کا کہنا ہے کہ آپریشن کے آغاز سے قبل شہر کے اکثر رہائشی بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

داعش نے جون 2014ء میں عراق کے ایک تہائی حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور عراق اور شام میں اپنے زیر تسلط علاقوں سے پوری دنیا کے مسلمانوں پر حکومت کے لئے خلافت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

داعش کی جارحانہ پالیسیوں کے سبب اسی دوران عالمی اور خطے کی طاقتوں نے داعش کو ایک مشترکہ خطرے کے طور پر بھانپتے ہوئے اس کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر رکھا ہے۔ امریکا کی سربراہی میں ایک عالمی اتحاد دونوں ممالک میں داعش کے ٹھکانوں پر مسلسل فضائی حملے کر رہا ہے جس کے نتیجے میں عراقی فوج داعش کے زیر تسلط علاقے چھڑوانے اور دیگر علاقوں کا دفاع کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

نعمانی کا کہنا تھا کہ "کمپلیکس ہمارے قبضے میں ہے اور اس کے آس پاس داعش کے جنگجوئوں کی کوئی موجودگی نہیں ہے۔" عراقی حکومت کا کہنا تھا کہ رمادی کے بعد ان کا اگلا ہدف موصل کی آزادی ہوگی جہاں پر داعش کے جنگجوئوں کی سب سے بڑی تعداد موجود ہے۔

عراقی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ "رمادی میں آسان فتح کی خبر سن کر موصل کے رہائشی یقینا بہت خوش ہوں گے۔" امریکی عہدیداران کو امید تھی کہ بغداد 2015ء کے دوران ہی موصل پر فوج آپریشن شروع کرے گا مگر یہ منصوبہ بعد میں بدل دیا گیا۔

موصل میں داعش کے خلاف کامیابی کی صورت میں عراق میں داعش اپنے مضبوط گڑھ اور فنڈنگ کے تمام بڑے ذرائع سے محروم ہو جائے گی۔ داعش کو مالی ضروریات تیل کی فروخت اور شہریوں پر ٹیکسوں اور فیسوں کی مد سے ہونے والی آمدن سے پوری ہوتی ہیں۔