داعش کی ستم رسیدہ یزیدی دوشیزہ کی شیخُ الازھر سے ملاقات

داعش اسلام اور انسانیت کی سب دُشمن ہے: ڈاکٹر الطیب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق اور شام میں انسانیت سوز مظالم کی مرتکب دہشت گرد تنظیم دولت اسلامی’’داعش‘‘ کے چنگل سے بچ نکلنے والی ایک یزیدی دوشیزہ نادیہ مراد نے قاہرہ میں جامعہ الازھر کے سربراہ ڈاکٹراحمد الطیب سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ شیخ الازھر نے یزیدی قبیلے سے تعلق رکھنے والی دوشیزہ کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور داعش کی زیرحراست اس کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی پر دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں اس کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے۔

اس موقع پر شیخ الازھر ڈاکٹر احمد الطیب کا کہنا تھا کہ شدت پسند گروپ کی سرگرمیاں نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں بلکہ تمام آسمانی مذاہب کی تعلیمات اور عالمی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔ اسلام سمیت تمام مذاہب اور قوانین بلا تفریق مذہب وملت اور رنگ و نسل ہرشخص کو اپنی ذات اور عزت و ناموس کے تحفظ کا ہر حق دیتے ہیں۔ داعشی شدت پسندوں کی جانب سے شمالی عراق میں یزیدی قبیلے کی گرفتار کی گئی خواتین کے ساتھ جو ظالمانہ سلوک کیا گیا اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسلام کے علمبردار کہلوانے کے دعوے دار دہشت گرد خود سب سے بڑھ کر اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اسلام لوگوں کو یرغمال بنانے اور انہیں لونڈیاں، غلام بنا کر بیچنے جیسے تمام قبیح افعال کی قطعی اجازت نہیں دیتا۔

ڈاکٹر احمد الطیب کا کہنا تھا کہ جامعہ الازھر دن رات اسلام کی اعتدال پسندانہ تعلیمات کی تبلیغ اور فروغ کے لیے کوشاں ہے اور اس کے اثرات سے خطے سمیت دنیا بھر کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام امن ،اخوت اور مل جل کر رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ مخالفین کو پکڑنے، انہیں کڑی سزائیں دینے اور ان کے گلے کاٹنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ جامعہ الازھر بھی انسانیت میں اسی فکر کو راسخ کرنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ داعش جیسے انتہا پسندوں کو فکری محاذ پر شکست دی جا سکے۔

اس موقع پر داعش کے قبضے سے نجات پانے والی دوشیزہ نے شیخ الازھر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ داعشی جنگجوؤں نے کس طرح سیکڑوں خواتین، بچوں اور مردوں کو یرغمال بنانے کے بعد قید کیے رکھا اور اس کی مبینہ عصمت ریزی بھی کی جاتی رہی۔

خیال رہے کہ ایک سال قبل داعشی جنگجوؤں نے شمالی عراق کے سنجار علاقے میں داخل ہونے کے بعد وہاں پر رہنے والے یزیدی قبیلے کے سیکڑوں مردو خواتین اور بچوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ یرغمال بنائے گئے یزیدی فرقے کے لوگوں کو غلام اور لونڈیاں بنا کر بازاروں میں نیلام کیا جاتا تھا۔ یرغمالیوں میں نادیہ مراد بھی شامل تھی جس نے فرار ہو کر اپنی جان بچا لی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں