.

ایرانی 'رہبر' کو ہٹانے کے لئے ریفرینڈم خطرناک ثابت ہو گا

علی خامنہ ای کے مقرب خاص قدامت پسند حلقے اصلاح پسندوں پر سخت برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر کے مقرب خاص اور سخت گیر شیعہ عالم دین محمد تقی مصباح یزدی نے خبردار کیا ہے کہ ’ولی فقیہ [رہبر انقلاب] کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی غرض سے ریفرنڈم کرانے کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’ایلنا‘‘ کے مطابق علامہ تقی مصباح یزدی نے پاسداران انقلاب کے عہدیداروں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران خبردار کیا کہ سپریم لیڈر [آیت اللہ علی خامنہ ای] کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے ریفرنڈم کرانے کی باتیں ملک کے سیاسی مستقبل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان کا اشارہ گارڈین کونسل کے چیئرمین اور سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے اس بیان کی جانب تھا جس میں انہوں نے حال ہی میں کہا ہے کہ سپریم لیڈر کی خرابی صحت کی بناء پر ان کے نائب کی تقرری کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

مصباح یزدی نے رفسنجانی کے اس بیان کے رد عمل میں کہا ہے کہ ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ ان سازشوں کو آگے بڑھانے کے لیے ملک میں ریفرنڈم کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

علامہ یزدی کا کہنا تھا کہ ایران کا سیاسی نظام ولایت فقیہ کی بنیاد پر قائم ہے جس میں اختیارات کا محور سپریم لیڈر ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی کو کوئی دوسرا ادارہ ان کے منصب سے نہیں ہٹا سکتا۔ سپریم لیڈر خود چاہیں تو عہدہ چھوڑ سکتے ہیں۔ انہیں ہٹانے کی کوشش کرنا یا اس کے لیے ریفرنڈم کرانا ملک کو کمزور کرنے کے مترادف ہو گا۔ اس وقت سپریم لیڈر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے ریفرنڈم سمیت کئی دوسری تجاویز بھی دی جا رہی ہیں۔ یہ تمام تجاویز ناقابل قبول ہیں۔

خیال رہے کہ علامہ مصباح یزدی کا تعلق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقربین خاص کے حقلے سے ہے اور وہ اپنی تقاریر میں اکثر و بیشتر خامنہ ای کا دفاع کرتے رہتے ہیں۔ یزدی خود بھی ماہرین کونسل کے رکن ہیں اور ایران میں متشدد خیالات رکھنے والے بنیاد پرستوں کے امام سمجھے جاتے ہیں۔

حال ہی میں گارڈین کونسل کے چیئرمین اور سابق صدر علی اکبرہاشمی رفسنجانی نے کہا تھا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے نائب کے تقرر کے لیے ماہرین کونسل کے زیراہتمام ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو متبادل سپریم لیڈر کے نام پرغور کرے گی تاہم ان کے اس بیان سے سپریم لیڈر کے مقربین سخت غصے میں آگے تھے۔