مسلح لڑائیوں کے ساتھ حزب اللہ کو مالیاتی جنگ کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لبنان کی ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو ایک ہی وقت میں کئی محاذوں پر جنگ کا سامنا ہے۔ شام میں باقاعدہ لڑائی میں حصہ لینے اور اسرائیل کے ساتھ پنجہ آزمائی کے ساتھ ساتھ تنظیم کو عالمی اقتصادی پابندیوں کی جنگ کا بھی مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک ہفتہ پیشتر اسرائیل کے مبینہ فضائی حملے میں شام میں القلمون کے مقام پر حزب اللہ کمانڈر سمیر القنطار کی ہلاکت اور اس کے ردعمل میں تنظیم کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کی جانب سے اسرائیل کو سنگین نتائج کی دھمکی کے بعد حزب اللہ ایک نئی جنگ میں الجھتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ ساری پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب حزب اللہ کو امریکا اور دوسرے ملکوں کی عالمی اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے۔

حزب اللہ نے لبنان کے بنکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تنظیم کے ساتھ لین دین روکنے سے متعلق امریکی ہدایات کو مسترد کر دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام بنک حزب اللہ کے ساتھ بالواسطہ یا براہ راست لین دین کا سلسلہ بدستور جاری رکھیں۔ لبنانی بنکوں نے حزب اللہ کی طرف سے دیئے گئے دھمکی آمیز مطالبے کو فی الحال کوئی اہمیت نہیں دی ہے۔ اس کا اظہار اس امر سے بھی ہوتا ہے کہ لبنان کی بنک یونین کے چیئرمین جلد واشنگٹن کے دورے پر جا رہے ہیں۔

شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت، اسرائیل کو جوابی کارروائی کی دھمکیاں اور لبنانی بنکوں کے ساتھ مخاصمت کے جلو میں حزب اللہ کی جنگ کے اثرات نائیجیریا میں بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں حزب اللہ کی جانب سے نائیجیریا کے ایک گمنام مذہبی رہ نما اور ان کے گروپ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ موصوف بھی ماضی میں حزب اللہ کے ساتھ اپنی ہمدردیوں کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اس ساری جنگ میں حزب اللہ کو اندرون ملک اپنے بنکوں کی طرف درپیش معرکہ زیادہ مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے۔

لبنانی اخبار’’النہار‘‘ کی رپورٹ کے مطابق لبنان کی بنک ایسوسی ایشن کے چمیرن جوزف طربیہ کی قیادت میں ایک وفد جنوری 2016ء کے آخر میں امریکا کا دورہ کرے گا۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی کانگریس اور حکومت حزب اللہ پر مالیاتی پابندیاں عاید کرنے کے ساتھ ساتھ تنظیم سے وابستگان کے کئی اثاثے منجمد کر چکی ہے۔ لبنانی وفد کا دورہ امریکا اس بات کا اشارہ ہے کہ بیروت حزب اللہ کے حوالے سے امریکی پابندیوں کو خاطر میں لانے والا نہیں بلکہ عالمی قوانین کے تحت لبنانی بنک بھی ہٹ لسٹ میں آنے والی تنظیموں اور شخصیات کے ساتھ لین دین نہیں کریں گے بلکہ بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لبنانی بنک ایسوسی ایشن کے چیئرمین کی قیادت میں امریکا آنے والا وفد وزیرخزانہ اور وزیرخارجہ سے بھی ملاقاتیں کرے گا۔ النہار کی رپورٹ کے مطابق بنکنگ شعبے کے حکام کا دورہ امریکا حزب اللہ کے مطالبے کا جواب نہیں اس سے تنظیم اور حسن نصراللہ کو یہ پیغام ضرور پہنچے گا لبنانی بنک کھلے عام حزب اللہ کے ساتھ لین دین کے حوالے سے نئی منصوبہ بندی اور آنے والے حالات کی پیشگی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں