مصری فورسز کی فائرنگ سے فلسطینی کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصرکی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ایک ذہنی معذور فلسطینی کی ہلاکت کے خلاف غزہ کی پٹی میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور وہ سوشل میڈیا پر بھی مصری فورسز کی اس ظالمانہ کارروائی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

اس فلسطینی کی ہلاکت کے واقعے کی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے۔اس میں ایک شخص بحرمتوسط سے نمودار ہورہا ہے۔وہ مصر اور غزہ کی پٹی کے درمیان واقع سرحدی چوکیوں کی جانب آرہا ہے۔

اس دوران مصری محافظ فائرنگ شروع کردیتے ہیں جبکہ غزہ کی جانب فلسطینی سکیورٹی فورسز کے اہل کاروں کی یہ آواز سنائی دے رہی ہے کہ فائرنگ روک دی جائے اور وہ مصریوں سے فائرنگ روکنے کا بھی اشارہ کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ شخص ذہنی طور پر معذور ہے۔

غزہ کی حکمران اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ شخص ذہنی عارضے میں مبتلا تھا۔تاہم اس شخص کے والد کا کہنا ہے کہ متوفی کے ساتھ ایسا کوئی معاملہ نہیں تھا اور وہ ٹھیک تھا۔

آن لائن پوسٹ کی گئی یہ ویڈیو جمعرات کو بنائی گئی تھی۔ اس کے بعد اس کی لاش سمندر کے کنارے پڑی دیکھی جاسکتی ہے۔مصری فوج نے اس واقعے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ''اس شخص کو کیوں قتل کیا گیا؟'' کے عنوان سے ہیش ٹیگ کے ساتھ تشہیر کی جارہی ہے۔غزہ کے مکینوں نے اتوار کے روز اس کی اندوہناک ہلاکت کے خلاف مظاہرہ کیا تھا اور مصر سے اس کی لاش خاندان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے سنہ 2006ء سے غزہ کی پٹی کی بحری ،برّی اور فضائی ناکا بندی کررکھی ہے اور تب سے اب تک غزہ کی صرف مصر کے ساتھ واقع رفح بارڈر کراسنگ وقتاً فوقتاً کھلی رہی ہے مگر جولائی 2013ء میں مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے رفح کراسنگ بھی بند ہے اور مصر نے چند ایک خاص مواقع پر ہی اس سرحدی گذرگاہ کو کھولا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے ناکا بندی اور مصر کی سرحدی گذرگاہ کی بندش کے بعد سے غزہ کے اٹھارہ لاکھ مکین دنیا کی اس سب سے بڑی کھلی جیل میں مقید و محصور ہو کررہ گئے ہیں اور ان کے لیے باقی دنیا سے آزادانہ رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں