اسرائیل کی حزب اللہ کو سبق سکھانے کی دھمکی

صہیونی فوج اور لبنانی تنظیم کے درمیان محاذ جنگ ہونے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں ایک ہفتہ قبل مبینہ اسرائیلی فضائی حملے میں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سرکردہ کمانڈر سمیر القنطار کی ہلاکت کے بعد دو طرفہ کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حزب اللہ نے اپنے کمانڈر کی ہلاکت کا بدلہ لینے کی دھمکی دی ہے جب کہ اس کے جواب میں اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کو سبق سکھانے کی دھمکیاں دینا شروع کی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تازہ دھمکی اسرائیلی آرمی چیف جنرل گیڈی آئزنکوٹ کی جانب سے دی گئی ہے۔ انہوں نے حزب اللہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے صہیونی ریاست کے مفادات پر حملہ کیا تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔

اپنے ایک بیان میں جنرل آئزنکوٹ کا کہنا تھا کہ ’’ہمارے سپاہی ہر روز مہلک دہشت گردی کے نشانے پر ہیں مگر ہم پوری جرات اور اصرار کے ساتھ اپنی سرحدوں کے دفاع میں مصروف ہیں۔ دہشت گردوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہم اپنی سرحدوں کے اندر کارروائی کے پابند نہیں بلکہ سرحدوں سے باہر بھی کارروائی کریں گے۔ اسرائیل کی شمالی سرحد غیرمحفوظ ہے اور کسی بھی وقت شمال کی جانب سے حملے کا سامنا کیا جا سکتا ہے‘‘۔

اسرائیلی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہم ہر طرح کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم نے اپنی قوت اور جنگی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ثابت کیا ہے کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ دشمن کو کیسے، کہاں اور کس وقت نشانہ بنانا ہے۔ ہمارے دشمن بھی جانتے ہیں کہ اسرائیل کی سلامتی پر حملے کے نتائج کتنے خطرناک ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیلی آرمی چیف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فوج کے ڈھانچے میں معمولی تبدیلی کرتے پیادہ فوج کی چار کمانڈو یونٹوں کو ایک بریگیڈ میں مدغم کر دیا گیا ہے۔ نئے تشکیل پانے والے یونٹ کے اہلکاروں کو حزب اللہ اور داعش کی طرف سے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے جلد ہی اگلے مورچوں پر تعینات کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں