زہران علوش کی ہلاکت، شام امن مذاکرات کے لیے دھچکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں گذشتہ ہفتے روس کے فضائی حملے میں ایک سرکردہ باغی لیڈر کی ہلاکت سے امن مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششوں کو دھچکا لگا ہے اور جنگ زدہ ملک میں جاری تنازعے کے خاتمے کے لیے غلط پیغام گیا ہے۔

شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف برسرپیکار ایک بڑے باغی گروپ جیش الاسلام کے سربراہ زہران علوش گذشتہ جمعے کو روسی لڑاکا طیاروں کی بمباری میں مارے گئے تھے۔ان کے زیر قیادت ہزاروں باغی جنگجو دارالحکومت دمشق کے نواح میں اسدی فوج کے خلاف لڑرہے ہیں۔

جیش الاسلام نے سعودی دارالحکومت الریاض میں منعقدہ کانفرنس میں شرکت کی تھی۔اس میں شامی حزب اختلاف کے گروپ نے صدر بشارالاسد کی حکومت سے مذاکرات کے لیے مشترکہ مؤقف اختیار کرنے سے اتفاق کیا تھا اور شام کے ایک سابق وزیر اعظم کو حکومت سے مذاکرات کےلیے اپنا نمائندہ منتخب کیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر کا کہنا ہے کہ امریکا زہران علوش کے گروپ کی حمایت نہیں کررہا تھا اور اس کو میدان جنگ میں اس گروپ کے کردار پر تشویش لاحق رہی ہے مگر جیش الاسلام کے جنگجوؤں نے داعش کے خلاف جنگ لڑی تھی اور وہ شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے سیاسی عمل میں بھی حصہ لے رہا ہے۔

ترجمان نے واشنگٹن میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران سوالوں کے جواب میں کہا کہ ''علوش کے علاوہ جیش الاسلام اور دوسرے باغی گروپوں کے لیڈروں پر حملوں سے بامقصد سیاسی مذاکرات اور ملک بھر میں جنگ بندی کے لیے کوششیں فی الواقع پیچیدگی کا شکار ہوگئی ہیں۔ہمیں آیندہ ہفتوں کے دوران ان دونوں محاذوں پر کوششیں کرنے کی ضرورت ہے''۔

انھوں نے واضح کیا کہ ''اس طرح کے فضائی حملے سے کوئی تعمیری پیغام نہیں جاتا ہے۔امریکا حزب اختلاف کی شام امن عمل میں مکمل شرکت کی حوصلہ افزائی کرے گا اور توقع ہے کہ وہ فضائی حملوں سے متاثر نہیں ہوں گے''۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو توقع ہے کہ ان حملوں سے مذاکرات کے لیے اب تک ہونے والی پیش رفت رجعت کا شکار نہیں ہوگی۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکا نے اس ایشو پر روس سے بات چیت کی ہے تو مسٹر ٹونر کا کہنا تھا کہ ''طرفین کے درمیان بات چیت ہوئی تھی لیکن انھیں اس بات کا یقین نہیں ہے کہ آیا اس خاص ایشو پر براہ راست کوئی تبادلہ خیال کیا گیا تھا یا نہیں''۔

اقوام متحدہ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی اور ثالث کار اسٹافن ڈی مستورا شامی حکومت اور حزب اختلاف کے گروپوں کو 25 جنوری کو جنیوا میں مذاکرات کے لیے بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ان کے ترجمان نے گذشتہ ہفتے کے روز زہران علوش کی ہلاکت کے بعد مذاکرات کی تاریخ کا اعلان کیا تھا۔ترجمان نے اپنے بیان میں مذاکرات کے متوقع شرکاء پر زوردیا تھا کہ وہ برسرزمین ہونے والی پیش رفت سے متزلزل نہ ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں