فلسطین میں 55 ہزار گھروں کی تعمیر کا صہیونی منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس کے درمیان 12 مربع کلومیٹر کے علاقے پر یہودی آباد کاروں کے لیے مزید ہزاروں غیرقانونی مکانات کی تعمیر کی اسکیم پر کام شروع کر دیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت غرب اردن میں 55 ہزار نئے گھر تعمیر کرنا چاہتی ہے جس کے لیے سنہ2014ء میں فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فلسطین میں یہودی آباد کاری کے خلاف سرگرم تنظیم Now Peace نے وزارت ہاؤسنگ کی اہم دستاویزات حاصل کی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ تل ابیب حکومت دریائے اردن کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے میں یہودی آباد کاروں کو بسانے کے لیے چھوٹی کالونیوں کے بجائے دو نئے شہر آباد کرنا چاہتی ہے جن میں 55 ہزار 548 مکانات کی تعمیر کی اسکیم تیار کی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے 8300 مکانات بیت المقدس سے متصل سیکٹر E1 میں تعمیر کیے جائیں گے جس کے نتیجے یں مغربی کنارے دو حصوں میں منقسم ہو کر رہ جائے گا۔ بیت المقدس قریب 12 کلو میٹر کے علاقے پر ان مکانات کی تعمیر سے غرب اردن کی جغرافیائی تقسیم کے بعد فلسطینی ریاست کے قیام میں ایک نئی رکاوٹ کھڑی کر دی جائے گی۔

انسانی حقوق کی تنظیم ’’ناؤ پیس‘‘ کا کہنا ہے کہ معالیہ ادومیم کے E1 سیکٹر میں یہودی آبادکاروں کے لیے گھروں کی تعمیر سے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل میں مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔ یہ ایک حساس علاقہ ہے۔ اگر اسرائیل اس علاقے میں مزید تعمیرات کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی حکومت جب بھی اس علاقے میں تعمیرات کے کسی منصوبے پر کام شروع کیا ہے عالمی دباؤ کے باعث صہیونی ریاست کو پسپا ہونا پڑا ہے مگر اب کی بار اسرائیل نے اس منصوبے پر خفیہ طور پر کام شروع کرنے کی اپنائی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی نئی کالونیوں میں سے بیشتر سنہ 2004ء میں تعمیر کی گئی دیوار فاصل کی مشرقی سمت میں ہوں گی۔ یہ ایک الگ تھلگ یہودی بلاک ہوگا۔ سنہ 2014ء میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان ناکام ہونے والے مذاکرات میں جن یہودی کالونیوں کے بدلے میں اراضی کے تبادلے کی بات کی گئی تھی نیا بلاک اس میں شامل نہیں ہو گا۔

درایں اثناء تنظیم آزادی فلسطین کی خاتون رکن حنان عشراوی نے اسرائیلی حکومت کے تازہ توسیعی پروجیکٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے صہیونی استعماری پالیسی کا حصہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک منظم سازش کے تحت فلسطینیوں کے گرد گھیرا تنگ کر کے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں غیرقانونی طور پر آباد کیے گئے یہودیوں کی تعداد چار لاکھ جب کہ مشرقی بیت المقدس میں یہ تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ غرب اردن اور بیت المقدس میں قائم یہودی کالونیوں نے مسئلہ فلسطین کے حل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں