.

شیرخوار فلسطینی کی موت پر رقصاں انتہا پسند یہودی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پولیس نے غربِ اردن کے ایک گاؤں میں آتش گیر بم کے حملے میں زندہ جلائے گئے شیرخوار فلسطینی بچے کی اندوہناک موت کا جشن منانے والے چار انتہا پسند یہودیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

ان چاروں انتہا پسندوں کو گذشتہ ہفتے منظرعام پر آنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا گیا تھا۔یہ ویڈیو ایک اسرائیلی نیوز چینل نے نشر کی تھی اور اس میں یہ چاروں شیر خوارعلی دوابشہ کی موت کا جشن منانے والے انتہا پسند یہودیوں کے ساتھ نظر آرہے تھے۔اس ویڈیو کی بعد میں سوشل میڈیا پر تشہیر کی گئی ہے۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سمیت مختلف سیاست دانوں نے ان انتہا پسند یہودیوں کے رویے کی مذمت کی ہے۔

اسرائیلی پولیس کے ترجمان میکی روزنفیلڈ نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ان چاروں افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ گذشتہ ہفتے اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔ملزموں کو مزید ریمانڈ کے لیے بدھ کو مقبوضہ بیت المقدس کی ایک عدالت میں پیش کیا جانے والا تھا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ انھیں شادی کی تقریب میں اسلحہ لہرانے اور دوسرے معاملات کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ترجمان نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی ہے لیکن اسرائیلی پبلک ریڈیو نے بتایا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد میں دُلھا،اپنی آتشیں رائفل کو کسی دوسرے کے حوالے کرنے والا ایک فوجی اور کالعدم انتہا پسند تحریک کیش کا ایک سابق کارکن شامل ہے۔اس نے ہی مبینہ طور پر آتشیں رائفل لہرائی تھی اور اس کو عربوں سے انتقام کا نام دیا ہے۔

ویڈیو میں مہمان بندوقوں ،چاقوؤں اور ایک مولوٹوف کاک ٹیل کے ساتھ ڈانس کررہے ہیں۔اس دوران انھوں نے زندہ جل جانے والے شیر خوار علی دوابشہ کی تصویر بھی اٹھا رکھی تھی۔میڈیا کی اطلاعات کے مطابق دُلھا سے ماضی میں بھی یہودی دہشت گردوں کی وارداتوں سے متعلق پوچھ تاچھ کی گئی تھی جبکہ دوسرے مہمان جولائی میں گرفتار کیے گئے افراد کے رشتے دار اور دوست ہیں۔

صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو نے ویڈیو کو افسوس ناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے اسرائیلی معاشرے اور ریاست کی سلامتی کے لیے خطرے کا موجب گروپ کا حقیقی چہرہ سامنے آگیا ہے۔حالیہ ہفتوں کے دوران اسرائیلی پولیس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک کم سن فلسطینی بچے اور اس کے والدین کو زندہ جلانے کے واقعے میں ملوّث یہودی دہشت گرد گروپ کے بعض ارکان کو گرفتار کیا ہے۔

یادرہے کہ غربِ اردن کے شہر نابلس کے نواح میں واقع ایک گاؤں دوما میں 31 جولائی کو یہودی انتہا پسندوں نے ایک فلسطینی خاندان کے مکان کو آتش گیر مواد سے حملہ کرکے نذرآتش کردیا تھا۔اس واقعے میں اٹھارہ ماہ کا علی دوابشہ موقع پر ہی زندہ جل گیا تھا اور اس کا بڑا بھائی اور والدین شدید زخمی ہوگئے تھے۔

مکان میں آتش زدگی سے علی کے والد سعد دوابشہ کے جسم کا اسّی فی صد حصہ جل گیا تھا اور وہ اسپتال میں کئی روز تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد 9 اگست کو چل بسے تھے۔علی کی والدہ ریحام دوابشہ بھی اس کے چار ہفتے کے بعد اسپتال میں اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئی تھیں۔خاندان کا واحد فرد علی کا بڑا بھائی احمد تب سے اسپتال میں زیر علاج ہے اور اس کی حالت بھی کوئی زیادہ بہتر نہیں ہے۔