.

داعش سے وابستہ سعودی جنگجو ہتھیار ڈال دیں : سفیر

خود کو حکام کے حوالے کرنے والوں سے رعایتی سلوک کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بغداد میں متعیّن سعودی سفیر ثامر السبهان نے عراق میں انتہاپسند گروپوں کے ساتھ مل کر لڑنے والے سعودی جنگجوؤں سے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ وہ خود کو حکام کے حوالے کردیں۔

انھوں نے العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اگر یہ جنگجو خود کو حکام کے حوالے کردیتے ہیں تو اس امر کو قانونی کارروائی اور ان کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران ملحوظ رکھا جائے گا''۔

انھوں نے عراقی فوج کی صوبے الانبار کے دارالحکومت الرمادی کو ''آزاد'' کرانے کے لیے کارروائی کے آغاز سے قبل بھی داعش النصرۃ محاذ سے وابستہ جنگجوؤں پر زوردیا تھا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور خود کو حکام کے حوالے کردیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ ''ان جنگجوؤں کو گذشتہ برسوں سے خود کو حکام کے حوالے کرنے کے لیے کہا جارہا ہے۔سعودی عرب میں خود کو حکام کے حوالے کرنے اور سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے والوں سے الگ الگ سلوک روا رکھاجاتا ہے اور ان کے خلاف مقدمات کی سماعت کے وقت بھی اس پہلو کو ملحوظ رکھا جاتا ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''سعودی عرب نے اپنے گھروں کو لوٹنے والوں کے لیے اپنے بازو کھلے رکھے ہوئے ہیں اور عراق میں سعودی سفارت خانہ انھیں جنگ زدہ علاقوں سے باہر نکلنے اور داعش کی گرفت سے خود کو آزاد کرانے کے لیے ہر طرح کی خدمات مہیا کرنے کو تیار ہے''۔

سفیر ثامر السبهان اپنی ٹیم کے ہمراہ اس وقت بغداد میں موجود ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان سے کسی جنگجو نے وطن لوٹنے کے لیے براہ راست یا عراقی حکومت کے ذریعے رابطہ نہیں کیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ داعش نے ان جنگجوؤں کو خود کو حکام کے حوالے کرنے سے روک رکھا ہے۔

انھوں نے سعودی عرب کی قیادت میں حال ہی میں تشکیل پانے والے چونتیس ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد میں عراق کی شمولیت کے حوالے سے سوال پر کہا کہ اس ایشو پر ابھی سفارت خانے کے ذریعے عراق کے متعلقہ حکام نے کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''عراق گذشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کا شکار ہے اور اس کا مقابلہ کررہا ہے اور ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراق کے ساتھ تعاون کریں گے''۔