.

ایرانی میڈیا جنرل سلیمانی بارے حقائق کیوں چھپا رہا ہے؟

متضاد خبروں نے سلیمانی کے انجام بارے خدشات بڑھا دیئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک ماہ قبل شام کے شمالی شہر حلب میں باغیوں کے ایک راکٹ حملے میں زخمی ہونے والے ایرانی جنگجوؤں کے سرغنہ جنرل قاسم سلیمانی کے انجام کے بارے میں ایرانی ذرائع ابلاغ حقائق چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے جنرل قاسم سلیمانی کے انجام کے حوالے سے شکوک وشبہات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم ملیشیا کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی 14 نومبر کو شورش زدہ شہر حلب میں حکومت مخالف باغیوں کے راکٹ حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد تہران منتقل کیے گئے تھے۔ بعد ازاں یہ اطلاعات آئی تھیں کہ جنرل سلیمانی تہران میں فوج کی زیر نگرانی بقیۃ اللہ نامی ایک اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ انہیں انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھا گیا ہے۔

پاسداران انقلاب کے ایک ذمہ دار ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ قاسم سلیمانی کے سر میں گہرے زخم آئے ہیں جن کے علاج کے لیے دو مرتبہ سر کی سرجری کی جا چکی ہے۔ ان کی حالت تشویشناک ہے اور کسی شخص کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

جنرل سلیمانی کی تشویشناک حالت میں خرابی صحت کے باوجود ایرانی ذرائع ابلاغ ان کے بارے میں متضاد نوعیت کی خبریں پھیلاتے اور انہیں تندرست ثابت کرتے ہوئے گمراہ کن پروپیگنڈہ کرتے رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں ایران کے عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے’’العالم‘‘ ٹی وی چینل نے ایک فوٹیج نشر کی ہے۔ یہ فوٹیج عراقی حزب اللہ نامی ایران نواز شیعہ گروپ کی جانب سے جاری کی گئی ہے جس میں القدس ایلیٹ فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو حلب میں ایک بڑے مجمع میں عربی میں خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ٹی وی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ فوٹیج کب بنائی گئی تھی۔ بہ ظاہر اس نوعیت کی ویڈیوز نشر کرنے کا مقصد یہ اشارہ دینا ہے کہ جنرل سلیمانی نہ صرف زندہ ہیں بلکہ وہ اب بھی عسکری مہمات میں شامل ہیں تاہم ویڈیو میں دکھائی گئی ان کی تصویر کی حقیقت کو چھپایا نہیں جا سکا ہے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ یہ کئی ماہ پرانی ویڈیو ہے یا کم از کم 14 نومبر کی تاریخ سے پہلے کی ہے۔

فوٹیج میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی جنوبی حلب کی الحاضر کالونی میں اپنے حامیوں سے مخاطب ہیں۔ یہ کالونی دو ماہ پہلے شامی فوج اور اس کے حامی جنگجوؤں کے قبضے میں آ گئی تھی۔

جنرل سلیمانی کی خرابی صحت کی خبر چھپانے کے لیے ایرانی ذرائع ابلاغ نے چند روز قبل ان کے دورہ روس کا بھی شوشہ چھوڑا مگر روسی حکام کی جانب سے ایرانی میڈیا کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں جنرل سلیمانی کے کسی دورے کا کوئی علم نہیں ہے۔

نومبر کے آخری ہفتے میں جنرل قاسم سلیمانی کو تہران میں قائم جامعہ بہشتی میں ایک تقریب سے خطاب کرنا تھا مگر وہ تقریب اس لیے منسوخ کر دی گئی تھی کیونکہ جنرل سلیمانی زخمی ہونے کے بعد اسپتال میں داخل تھے اور وہ تقریب کی صدارت نہیں کر سکتے تھے۔ تقریب کے لے مقرر کردہ تاریخ تک ایرانی میڈٰیا مسلسل یہ پروپیگنڈۃ کرتا رہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی بہشتی یونیورسٹی میں خطاب کریں گے۔