.

شامی حزبِ اختلاف کی دو شخصیات کی گرفتاری کے بعد رہائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد کی حکومت نے حزبِ اختلاف کی دو معروف شخصیات کو رہا کردیا ہے۔انھیں بدھ کے روز سعودی دارالحکومت الریاض جاتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

قومی رابطہ کمیٹی برائے جمہوری تبدیلی (این سی سی ڈی سی) کے سیکریٹری جنرل یحییٰ عزیز نے بتایا ہے کہ ان کی جماعت کے دو ارکان ''احمدالاسراوی اور منیرالبیطار کو شام کی لبنان کے ساتھ واقع سرحد پر روکا گیا تھا''۔

اسراوی اور بیطار سعودی عرب میں شامی حزبِ اختلاف کی سپریم کمیٹی برائے مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے جارہے تھے۔یہ کمیٹی دسمبر کے اوائل میں الریاض میں شامی حزبِ اختلاف کے مختلف گروپوں کے درمیان مذاکرات کے بعد تشکیل دی گئی تھی۔اب یہ کمیٹی یکم جنوری کو حزب اختلاف کا ایک وفد منتخب کرے گی جو صدر بشارالاسد کی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ جنوری ہی میں مذاکرات کرے گا۔

یحییٰ عزیز کے بہ قول اسراوی اور بیطار کو گرفتاری کے بعد کسی نامعلوم مقام کی جانب لے جایا گیا تھا اور یہ ان لوگوں کا کام تھا جو شام میں جاری تنازعے کا سیاسی حل نہیں چاہتے ہیں۔این سی سی ڈی سی نے بعد میں اپنے فیس بُک صفحے پر اطلاع دی ہے کہ ان دونوں کو رہا کردیا گیا ہے۔اس گروپ نے شامی جیلوں سے تمام قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ان دونوں شامی شخصیات کی گرفتاری اور رہائی کی خبر ایک معروف باغی گروپ جیش الاسلام کے سربراہ زہران علوش کی ہلاکت کی اطلاع کے ایک ہفتے کے بعد منظرعام پر آئی ہے۔شامی فوج نے ان کی ہلاکت کی ذمے داری قبول کی ہے۔جیش الاسلام نے بھی الریاض امن کانفرنس میں شرکت کی تھی۔

امریکا اور سعودی عرب نے ان کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے شامی بحران کے سیاسی حل کے لیے کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ زہران علوش کی ہلاکت سے امن عمل کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور اس سے شام میں جاری خانہ جنگی کے سیاسی حل کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔

انھوں نے روس پر زہران علوش کی ہلاکت کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ ''میں نہیں جانتا روسیوں کے ذہن میں کیا ہے''۔روس گذشتہ تین ماہ سے شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے مخالف باغی گروپوں پر بمباری کررہا ہے۔اس کے لڑاکا طیارے داعش کے علاوہ اعتدال پسند باغی گروپوں کو بھی اپنے حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔