.

’داعش، عراقی فوج کو رمادی سے نہیں نکال سکتی‘

رمادی آپریشن کے لیے 16 ہزارعراقی فوجیوں کو تربیت دی گئی: اسٹیو وارن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں دولت اسلامی’’داعش‘‘ کہلوانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف نبرد آزما عالمی فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل اسٹیو وارن نے کہا ہے کہ رمادی میں داعش کی شکست نے عراقی فوج کے مورال اور اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ داعش میں عراقی فوج کو رمادی سے دوبارہ نکال باہر کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

الحدث ٹیلی ویژن چینل سے بات کرتے ہوئے مسٹر وارن نے کہا کہ رمادی میں داعش کو نکال باہر کرنے کے لیے امریکی ماہرین نے 16 ہزار عراقی اہلکاروں کو عسکری تربیت دی۔ جب عراق کی بری فوج کے داستے رمادی کی طرف پیش قدمی کرنے لگے تو جنگی طیاروں سے ان کی مدد کی گئی۔ ہمیں عراق میں مخصوص مقامات پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے بغداد حکومت کی طرف سے اجازت حاصل ہے۔ ہم کوئی بھی کارروائی اپنی مرضی سے نہیں کرتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کرنل اسٹیو وارن کا کہنا تھا کہ رمادی شہر کے بعض مقامات اب بھی داعش کے دہشت گردوں کے قبضٗے میں ہیں، جن کی صٖفائی کے لیے آپریشن جاری ہے تاہم داعش کی کمر توڑ دی گئی ہے اور اب وہ عراقی فوج کو الرمادی سے باہر نہیں دھکیل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت نے الرمادی کی تعمیر و ترقی کے لیے 21 ملین ڈالر کا بجٹ مختص کیا ہے۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں اتحادی فوج کے ترجمان نے عراق میں داعش کے گڑھ موصل شہر سے جنگجوؤں کے نکالنے کے لیے آپریشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ موصل میں فوجی آپریشن شروع کرنے کے لیے وقت کا تعین کرنا مشکل ہے تاہم عراقی سیکیورٹی فورسز اور عوام اس بڑے مشن کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ موصل کو داعش سے چھڑانے کے لیے شیعہ ملیشیا 'حشد الشعبی' اور کرد فوج البیشمیرکہ سے بھی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ داعش کی لاجسٹک سپورٹ کی صلاحیت پر بھی کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ شدت پسند تنظیم بارود سے بھری گاڑیاں عراقی شہروں تک پہنچانے میں ناکام ہو چکی ہے۔