.

دہشت گردوں کو سزائے موت جیلوں میں دی گئی

چار افراد کو فائرنگ جبکہ دیگر کے سرقلم کر کے موت سے ہمنکار کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان جنرل منصور الترکی نے ہفتہ کے روز ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں سے قصاص لینے کی کارروائی پر مملکت کی جیلوں کے اندر عمل ہوا۔ حکومتی ضوابط کے تحت سزائے موت کی کارروائی کی تصاویر نہیں بنائی جاتیں۔ انہوں نے کہا کہ سزائے موت پر جازان کے علاوہ پورے ملک میں عمل کیا گیا۔

جنرل منصور نے بتایا کہ دہشت گردی کے چار مقدمات ابھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چار افراد کو موت سے ہمکنار کرنے کے لئے فائرنگ سکواڈ کا استعمال کیا گیا جبکہ باقی دہشت گردوں کے تلوار سے سر قلم کئے گئے۔

ترجمان نے یہ بات زور دیکر کہی کہ مملکت کے سیکیورٹی ادارے دہشت گردی اور اس کی ترغیب دینے والوں کا پیچھا کرنے میں کسی قسم کی پس وپیش سے کام نہیں لیں گے۔

نیوز کانفرنس میں موجود وزارت انصاف کے ترجمان منصور القفاری نے بتایا کہ دہشت گردوں سے قصاص لینے کی منظوری خصوصی عدالتوں میں مقدمات کی باقاعدہ سماعت کے بعد جاری کی گئی۔ ان عدالتوں میں ملزموں کو اپنے دفاع کا مکمل اختیار اور موقع فراہم کیا گیا۔

سزائے موت کے فیصلے پر عمل درآمد سے پہلے انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے گئے۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان وزارت انصاف کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران انہیں تمام تر قانونی امداد فراہم کی گئی، جو افراد وکیل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، انہیں وکیل کی سہولت فراہم کی گئی۔

وزارت انصاف کے ترجمان نے کہا کہ ابتدائی عدالت سماعت نے 55 افراد کو سزائے موت سنائی جبکہ اپیلیٹ کورٹ نے چار افراد کی سزائے موت مسترد کر دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت بھی خصوصی عدالت میں 179 افراد کے مقدمات زیر سماعت ہیں۔

القفاری نے بتایا کہ عدالتی فیصلے شیعہ یا سنی وابستگی کو سامنے رکھ کر نہیں کئے جاتے بلکہ ان پر عدالتی ضوابط کے تحت عمل ہوتا ہے۔ سعودی عدالتی نظام آزاد اور شفاف ہے، اس میں شک و شبہ ہمیں قبول نہیں۔

سعودی وزارت داخلہ نے ہفتہ کے روز 47 دہشت گردوں کو سزائے موت دے دی۔ فنا کے گھاٹ اتارنے جانے والے 45 افراد سعودی شہری تھی جبکہ ایک مصری اور چاڈ کا باشندے سے بھی دہشت گردی کی پاداش میں قصاص لی گئی۔