.

دہشت گردوں کو پھانسی پر تہران، سعودی عرب پر برس پڑا

باسیج ملیشیا اتوار کو تہران میں سعودی سفارتخانے کے باہر مظاہرہ کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرق وسطیٰ کے شیعہ سیاسی حلقوں کی طرح ایران نے بھی سعودی شیعہ رہنما نمر کو دی گئی سزائے موت کی سخت مذمت کی ہے۔

نمر النمر کو سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد کی اطلاع ملنے اور سعودی عرب کے سرکاری ٹیلی ویژن کی طرف سے اس سزا پر عمل درآمد کی تصدیق کے بعد تہران میں ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ ریاض حکومت کو اس کی ’بہت بھاری قیمت‘ چکانا پڑے گی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابر انصاری نے نمر کو پھانسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ’’سعودی حکومت خود تو انتہا پسندوں اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرتی ہے لیکن ملک کے اندر سے کی جانے والی تنقید کا جواب جبر اور موت کی سزاؤں کے ساتھ دیا جاتا ہے۔‘‘

نمر اور دیگر شیعہ مظاہرین کو سنائی گئی سزائے موت کے حوالے سے تہران حکومت نے سعودی عرب سے کئی بار مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان سزا یافتہ سعودی شہریوں کے لیے معافی کا اعلان کرتے ہوئے انہیں رہا کر دے۔ اس سزائے موت پر عمل درآمد کے خلاف باسیج ملیشیا تہران میں کل اتوار کو سعودی سفارت خانے کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرے کرے گی۔

نمر النمر کو پھانسی پر ایران کے سرکردہ مذہبی رہنما آیت اللہ خاتمی نے بھی مذمت کی۔ خاتمی نے کہا کہ نمر کی موت سعودی حکومت کے زوال کی وجہ بنے گی۔ آیت اللہ احمد خاتمی کے ایران میں حکمران طبقے کے ساتھ قریبی روابط ہیں۔ خاتمی نے کہا کہ سعودی حکومت ان کے بقول جس جبر اور انتقام کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔