.

#نمر_النمر اور #فارس_آل_شویل کون تھے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت داخلہ کے مطابق سرکردہ شیعہ عالم دین نمر النمر اور القاعدہ کے نظریاتی سرخیل فارس آل شویل سمیت 47 دیگر افراد کو ہفتے کے روز سزائے موت دے دی گئی۔

چھپن سالہ نمر 2011ء کو مملکت کے مشرقی علاقے میں احتجاجی مظاہرے کروانے والوں میں نمایاں نام تھا۔انہیں 2012ء میں گرفتار کیا گیا۔ دوران حراست انہوں نے اپنے خلاف عاید سیاسی الزامات کی صحت سے انکار نہیں کیا۔سعودی وزارت داخلہ نے ا نہیں اس وقت لوگوں کو 'بغاوت پر اکسانے' والا شخص قرار دیا جب حکام نے انہیں مملکت کے مشرقی گاؤں عوامیہ سے زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ 2014ء اکتوبر میں ان پر مملکت میں غیر ملکی مداخلت سمیت دیگر الزامات کی پاداش میں سزائے موت سنائی گئی۔

داریں اثنا فارس آل شویل کو سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ القاعدہ کا سرکردہ نظریاتی رہنما گردانتے تھے۔ ان کے بارے میں یقین ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ تنظیم کی کارروائیوں کے لئے تحقیقی لوازمہ تیار کرتے تھے۔انہیں ہلاکت خیز حملوں کے بعد اگست 2004ء میں ایک بڑی گرفتاری مہم کے دوران حراست میں لیا گیا۔ آل شویل اپنی تحریروں کے ذریعے عسکریت پسندوں کی کارروائیوں اور طریقہ کار کا جواز تلاش کیا کرتے تھے۔

یاد رہے کہ 2015 کے دوران داعش کے ہمنوا عسکریت پسندوں نے سعودی عرب میں متعدد حملے کئے۔ ان حملوں میں درجنوں شہری جان سے گئے، جس کے بعد ریاض پر ان کارروائیوں میں ملوث افراد کے خلاف اقدامات کے لئے دباؤ بڑھتا رہا۔