.

ایران میں سعودی سفارتخانے پر مشتعل ھجوم کا دھاوا

شرپسندوں کا مشہد میں سعودی قونصلیٹ پر حملہ، دفاتر کو آگ لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران میں قائم سعودی عرب کے سفارت خانے پر مشتعل ھجوم نے دھاوا بول دیا اور دفاتر پر پٹرول بموں سے حملہ کر کے اس میں آگ لگا دی جس کے نتیجے میں سفارت خانے کے دفتر کو غیرمعمولی نقصان پہنچا ہے۔

ایران کی طلباء خبر رساں ایجنسی ’ایسنا‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہفتے کی شام مشتعل ھجوم نے سعودی عرب کے سفارت خانے پر یلغار کر دی۔ مظاہرین نے سفارت خانے پر سنگ باری کی اور پٹرول بم پھینکے۔ بلوائی سفارت خانے کی بیرونی دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہو گئے، توڑپھوڑ کے ساتھ لوٹ مار بھی کی۔ بعد میں پولیس نے مداخلت کر کے بلوائیوں کو سفارت خانے کی عمارت سے نکالا۔

سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر سفارت خانے کی عمارت پر مشتعل ھجوم کے حملے کی تصاویر جاری کی ہیں۔ تصاویر میں سفارت خانے میں لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کے مناظر صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔

ایک تصویر میں بلوائیوں کی یلغار کے بعد پولیس کی کارروائی میں حملہ آوروں کو سفارت خانے سے باہر نکالنے اور سفارت خانے کی عمارت میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوشش کرتے دکھایا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق واقعے کے فوری بعد تہران پولیس چیف حالات قابو میں لانے کے لیے سفارت خانے کے باہر خود موجود ہیں اور پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔

خبر رساں اداروں نے وزارت خارجہ کے ترجمان حسن جابر انصاری نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے سفارت خانے پر یلغار افسوسناک اقدام ہے۔ پولیس نے حالات کنٹرول کر لیے ہیں۔ حکومت نے قانون نافز کرنے والے اداروں کو ہدایت کردی ہے کہ اس نوعیت کا واقعہ دوبارہ رونما نہیں ہونا چاہئیں۔

خیال رہے کہ تہران میں قائم سعودی عرب کے سفارت خانے پر بلوائیوں کا حملہ ایک ایسے وقت میں رونما ہوا ہے جب سعودی عرب نے گذشتہ روز ایران نواز شیعہ مبلغ نمر النمر سمیت 47 دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکا دیا جس پر ایران میں عوامی اور حکومتی سطح پر بھی سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔

تہران میں سعودی سفارت خانے پر مشتعل ھجوم کے حملے سے چند دن قبل مشہد شہر میں قائم سعودی قونصل خانے پر پاسداران انقلاب کی الپاسیج ملیشیا کے اہلکاروں نے دھاوا بول دیا تھا۔ شدت پسندوں نے قونصل خانے کی عمارت میں گھس کر اس کے اندر بھی آگ لگا دی تھی جس کے نتیجے میں دفتر کا ریکارڈ جل کر خاکستر ہو گیا۔

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں ایرانی وزارت خارجہ نے تہران میں متعین سعودی عرب کے قائم مقام سفیر احمد المولد کو دفتر خارجہ طلب کر کے ایران نواز شدت پسندوں کو پھانسی دینے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ ایرانی وزیرخارجہ کے معاون خصوصی برائے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقا حسن عبداللھیان نے احمدالمولد سے نمر النمبر سمیت دیگر ایران جواز شدت پسندوں کی سزائے موت کی مذمت کرتے ہوئے اس پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔