.

عراقی فوج کے اڈے پر خودکش حملے ،15 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر تکریت کے نزدیک سکیورٹی فورسز کے ایک اڈے پر خود کش بم دھماکوں میں پندرہ اہلکار ہلاک اور بائیس زخمی ہوگئے ہیں۔

عراق کے سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ پانچ خودکش بمباروں نے اتوار کے روز تکریت کے نواح میں واقع سبایکر فوجی اڈے پر حملہ کیا ہے۔ان میں سے دو نے پہلے اپنی باردود سے بھری گاڑیوں کو گیٹ پر دھماکے سے اڑا دیا اور اس کے بعد تین حملہ آوروں نے فوجی اڈے میں گھس کر خود کش دھماکے کیے ہیں۔

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے آن لائن جاری کردہ ایک بیان میں ان خودکش بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔واضح رہے کہ داعش نے جون 2014ء میں شمالی شہر موصل پر قبضے کے بعد سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت پر یلغار کی تھی اور انھوں تکریت کے نواح میں واقع فوجی اڈے سبایکر میں عراقی فوجیوں اور رنگروٹوں کو پکڑنے کے بعد بے دردی سے قتل کردیا تھا۔

داعش نے گذشتہ سال ان کے قتل عام کی فوٹیج بھی جاری کی تھی جس میں جنگجو دریائے دجلہ کے کنارے ان رنگروٹوں کو کھڑا کرکے گولیاں مار رہے تھے اور پھر ان کی لاشیں دریا میں بہا رہے تھے۔عراق کی ایک فوجداری عدالت نے 8 جولائی 2015ء کو داعش کے جہادیوں اور ان کے اتحادی جنگجوؤں کے ہاتھوں فوجی رنگروٹوں کے قتلِ عام کے الزام میں چوبیس افراد کو قصوروار قرار دے کر پھانسی کا حکم دیا تھا۔