.

شام:عرب ،کرد جنگجوؤں سے لڑائی میں 16 داعشی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شہرالرقہ کے شمال میں واقع علاقے میں عرب اور کرد فورسز کے ساتھ لڑائی میں سخت گیر گروپ داعش کے سولہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

الرقہ سے پچاس کلومیٹر شمال میں واقع قصبے عین عیسیٰ میں شامی ڈیمو کریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) اور داعش کے درمیان گذشتہ چار روز سے لڑائی جاری ہے۔داعش نے اس قصبے پر قبضے کے لیے بدھ کو حملہ کیا تھا اور اکیس کرد جنگجوؤں کو ہلاک کردیا تھا۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ عین عیسیٰ کے نزدیک ایس ڈی ایف کے ساتھ جھڑپوں میں سولہ جہادی ہلاک اور انیس زخمی ہوئے ہیں۔عرب کرد جنگجوؤں نے اس قصبے کے نزدیک واقع علاقے پر بھی دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔اس پر چند روز قبل داعش نے قبضہ کر لیا تھا۔

ایس ڈی ایف میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) اور عرب جنگجو شامل ہیں۔اس نے حالیہ ہفتوں کے دوران داعش کے خلاف متعدد بڑی کارروائیاں کی ہیں۔26 دسمبر کو اس نے تشرین ڈیم اور دریائے فرات کے کنارے آباد متعدد دیہات پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں سے داعش کے جنگجوؤں کو مار بھگایا تھا۔

اس ڈیم پر داعش نے 2014ء سے قبضہ کررکھا تھا۔یہاں سے پیدا ہونے والی بجلی شمالی صوبے حلب کے بڑے حصے کو مہیا کی جاتی ہے۔ایس ڈی ایف کا داعش کے خلاف یہ دوسرا بڑا آپریشن تھا۔اس سے پہلے عرب کرد جنگجوؤں نے شمال مشرقی صوبے الحسکہ میں واقع دو سو دیہات سے داعش کو نکال باہر کیا تھا۔

داعش کا دریائے فرات کے مغربی کنارے کی جانب آباد علاقوں پر بدستور قبضہ برقرار ہے۔یہ علاقہ الرقہ سے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شام کے قصبے جرابلس تک پھیلا ہوا ہے۔داعش کو ایک جانب تو عرب ،کرد جنگجوؤں کے خلاف میدان جنگ میں لڑائی کا سامنا ہے اور دوسری جانب امریکا کی قیادت میں اتحاد اور روس کے لڑاکا طیارے بھی ان کے ٹھکانوں پر مسلسل بمباری کررہے ہیں جس کی وجہ سے داعش کے جنگجو اپنے زیر قبضہ علاقوں سے پسپائی اختیار کررہے ہیں۔