.

’ایران خطے میں دہشت گردوں کا محافظ و معاون‘

ریاض نے دہشت گردوں کی سزاؤں پر ایرانی احتجاج مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے گذشتہ روز پچاس کے قریب دہشت گردوں کو دی گئی موت کی سزاؤں کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے ایران کے احتجاج کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے ایک ذمہ دار ذرائع نے الزام عاید کیا ہے کہ ایران عرب خطے میں سیاسی عدم استحکام کے لیے علاقائی دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ ریاض میں سیتنالیس دہشت گردوں کو دی گئی موت کی سزاؤں پر تہران کے احتجاج کا کوئی جواز نہیں۔ سعودی حکومت ایرانی احتجاج کی کلی طور پر مسترد کرتی ہے۔

العربیہ ڈٓاٹ نیٹ کے مطابق ریاض وزارت خارجہ کے ذریعے کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو دی گئی موت کی سزاؤں پر اشتعال انگیز رد عمل ظٖاہر کر کے تہران نے اپنا مکروہ چہرہ خود ہی بے نقاب کر دیا ہے۔ دہشت گردوں کی سزؤں پر ایران کی چیخ پکار سے ثابت ہو گیا ہے کہ ایرانی حکومت دہشت گردوں کی پشت پناہ ہے جو عرب خطے میں سیاسی عدم استحکام کی خاطر اپنے حامی گروپوں کی مدد کر رہا ہے۔

وزارت خارجہ کے ذریعے کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی سزاؤں پر ایران کے غیر ذمہ دارانہ رد عمل سے یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ایرانی رجیم عر ب ممالک میں جاری فسادات کو ہوا دینے اور اشتعال انگیز پالیسی کے فروغ کے لیے دہشت گردی کی کارروائیوں کا ذمہ دار ہے۔

سعودی حکومت کے ذریعے کا مزید کہا ہے کہ ایران دنیا کا واحد ملک ہے جو ایک ریاست کی حیثیت سے دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ ایران کی دہشت گرد نواز حکمت عملی کی امریکا سمیت پوری دنیا مذمت کر چکی ہے۔

امریکی خفیہ ادارے بھی پورے ثبوت کے ساتھ یہ آشکار کر چکے ہیں کہ ایران نے سنہ 2001ء میں القاعدہ کے دہشت گردوں کو پناہ دی تھی۔ دہشت گردی کی حمایت اور معاونت کی پاداش میں امریکا سمیت عالمی برادری کی جانب سے تہران پر اقتصادی پابندیاں عاید کی جا چکی ہیں۔ یہ ایران ہی ہے جو لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سمیت کئی دوسرے عسکریت پسند گروپوں کی مادی اور معنوی مدد کر رہا ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب میں سنہ 1996ء میں بم دھماکوں میں ملوث حزب اللہ الحجاز نامی دہشت گرد کو بھی تہران ہی نے پناہ دے کر دہشت گردی کے فروغ کی حکمت عملی ثابت کی تھی۔