.

داعش کے بم حملوں میں 11 عراقی فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) نے عراق کے مغربی قصبے حدیثہ کے نواح میں عراقی فوج اور اس کے اتحادی قبائلی جنگجوؤں پر بموں سے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں گیارہ فوجی ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

صوبہ الانبار میں واقع حدیثہ کی کونسل کے رکن خالد سلیمان نے بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے عراقی فوج کو نشانہ بنانے کے لیے سوموار کے روز سڑک کے کنارے نصب بموں سے حملہ کیا ہے اور خودکش کار بم دھماکا کیا ہے۔حملے میں تیس عراقی فوجی زخمی ہوئے ہے۔حدیثہ میں ایک اسپتال کے میڈیکل ذرائع نے ان ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔

داعش کے جنگجوؤں کا مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت الرمادی سے پسپائی کے ایک ہفتے کے بعد عراقی فوج پر یہ تباہ کن حملہ ہے۔عراقی فوج نے امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیاروں کی مدد سے الرمادی کے وسطی حصے پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا لیکن داعش کے جنگجو شہر کے مشرقی اور شمالی حصے میں ابھی تک موجود ہیں اور وہ عراقی فوج کی چوکیوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

بغداد میں امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد کے ترجمان کرنل اسٹیو وارن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان میں سے بیشتر حملوں کو فضائی بمباری اور عراقی فوج کے بھاری ہتھیاروں سے پسپا کردیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ داعش اب کار بموں یا ٹرک بموں سے حملے کررہے ہیں۔وہ بارود سے بھری کاروں کے ذریعے دفاعی لائن میں شگاف ڈالنے یا پھر زمین کے کسی ٹکڑے پر قبضے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کے بہ قول عراقی فوج مہیا کردہ بھاری ہتھیاروں کو اب داعش کے خلاف جنگ میں بروئے کار لارہی ہے۔