.

سفارت خانوں پر حملوں کی مکروہ ایرانی تاریخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران میں ہفتے کے روز شدت پسند بلوائیوں کی سعودی عرب کے سفارت خانے پر یلغار نے سفارت خانوں اور قونصل خانوں پر حملوں کی مکروہ ایرانی تاریخ ایک بار پھر دہرا دی ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے سفارت خانے اور مشہد شہر میں قونصل خانے پر ایرانی شرپسندوں کا حملہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ایرانی تاریخ سفارت خانوں کی پامالی کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ چھتیس برس قبل تہران میں واقع امریکی سفارت خانے بھی اسی طرح کی یلغار کی گئی تھی۔

تین نومبر 1979ء کو شدت پسند ایرانی طلباء نے امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا اور سفارت خانے میں موجود عملے کے 53 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ بلوائیوں نے امریکی سفارت خانے کا محاصرہ 444 دن تک جاری رکھا جہاں تمام یرغمالی بھی ایک سال سے زاید عرصے تک سفارت خانے میں محصور رہے۔

طویل مذاکرات کے بعد اغواء کاروں کو 50 ٹن سونا ادا کرنے کے ساتھ امریکی بنکوں میں منجمد اضافی پچاس ٹن سونا واگزار کرنے کے بدلے یرغمالیوں کو رہا کیا گیا۔ 30 جنوری 1981ء کو مذاکرات کی کامیابی کے بعد یرغمال سفارتکاروں کو ایک طیارے کے ذریعے الجزائر کے راستے امریکا روانہ کیا گیا۔

امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا یہ نقطہ آغاز تھا جس کے بعد آج تک دونوں ملک سفارت کاری کے میدان میں ایک دوسرے کے قریب نہیں آ سکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تہران میں امریکی سفارت خانے پر یلغار کرنے والے طلباء میں محمود احمدی نژاد بھی شامل تھے جو دو بار ایران کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔

ایران میں امریکا اور ایران کے سفارت خانوں پر حملوں کے علاوہ کئی دوسرے ممالک کے سفارت خانوں پر بھی اسی طرح کے حملے کیے جاتے رہے ہیں۔ کویت، روس، پاکستان اور برطانیہ کے سفارت خانے اور قونصل خانے بھی ایسی یلغار کا سامنا کر چکے ہیں۔