.

عراق میں سنیوں کی مسجدوں پر حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی حکام اور پولیس نے ملک کے مختلف حصوں میں سنیوں کی دو مساجد پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔ یہ حملے بظاہر سعودی عرب میں ایران نواز شیعہ مبلغ کو سزائے موت دینے کا ردعمل معلوم ہوتے ہیں۔

وزارت داخلہ کے ایک بیان میں بغداد سے تقریبا 100 کلومیٹر کی مسافت پر واقع حلہ میں مساجد پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔ وزارت نے ان حملوں میں ایک شخص کی ہلاکت کی خبر کی تصدیق نہیں کی۔

عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے صوبائی حکام کو حکم دیا کہ وہ مساجد پر حملہ کرنے والے مجرموں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لائیں۔ انہوں نے ان حملوں کا الزام دہشت گرد گروپ داعش اور اس کی ہم خیال جماعتوں پر لگایا۔

ہفتے کے روز سعودی عرب نے مملکت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے الزا م میں شیعہ عالم نمر النمر کو سنائی گئی سزا پر عمل درآمد کرتے ہوئے ان سمیت 47 افراد کا سر قلم کر دیا جس کے بعد عراق اور ایران سے غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔

سعودی عرب کے تہران میں سفارتخانے پر مشتعل ہجوم کی جانب سے حملے کے بعد ریاض نے اتوار کے روز ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو ملک سے بے دخل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق حلہ کی عمار بن یاسر مسجد پر حملے کے نتیجے میں اس کے گنبد اور دیواروں کو نقصان پہنچا۔ جبکہ دوسرے حملے میں وسطی حلہ میں واقع الفتح المبین مسجد پر حملہ کیا گیا جہاں اطلاعات کے مطابق مسجد کا چوکیدار ہلاک ہو گیا۔