.

مقبوضہ القدس میں دو مقتول فلسطینیوں کے مکان مسمار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں دو فلسطینیوں کے مکانات مسمار کردیے ہیں۔ان دونوں فلسطینیوں پر چار یہودیوں کو قتل کرنے کا الزام تھا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی اطلاع کے مطابق اسرائیلی فورسز نے سوموار کے روز مقبوضہ القدس کے علاقے جبل مکبر میں ایک مقتول فلسطینی علاء ابو جمال کا مکان مسمار کیا ہے۔انھوں نے پہلے اس مکان کی جانب جانے والے راستوں کو مسدود کردیا تھا۔

ابو جمال نے مبینہ طور پر 13اکتوبر کو مقبوضہ بیت المقدس میں ایک بس اسٹاپ پر کھڑے افراد پر اپنی کار چڑھا دی تھی اور پھر کار سے نکل کر ایک یہودی ربی کو چاقو گھونپ کر ہلاک کر دیا تھا۔بعد میں اس فلسطینی کو وہیں گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔

ابو جمال کے دو کزنوں نے نومبر میں مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے حرنوف میں واقع یہود کے ایک معبد پر دھاوا بول دیا تھا اور وہاں پانچ یہودیوں اور ایک پولیس اہلکار کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔

اسرائیلی فورسز نے جبل مکبر ہی میں واقع ایک اور مقتول فلسطینی بہا علیان کے مکان کو جیک ہتھوڑوں کے ذریعے ڈھا دیا ہے۔یہ مکان ایک تین منزلہ عمارت کی درمیانی منزل میں واقع تھا اور اسرائیلی فوجیوں نے جیک سے اس کی دیواریں توڑ دی ہیں۔

علیان اور ایک اور فلسطینی بلال غنم پر یہ الزام عاید کیا گیا تھا کہ انھوں نے 13 اکتوبر کو مقبوضہ بیت المقدس میں ایک بس میں سوار مسافروں پر فائرنگ کردی تھی اور ان پر چاقوؤں سے وار کیے تھے جس سے دو اسرائیلی اور اسرائیل اور امریکا کی دُہری شہریت کا حامل ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔علیان کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا جبکہ غنم کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے ان دونوں مکانوں کو مسمار کرنے کی کارروائی سے قبل علاقے کو مکینوں سے خالی کرا لیا تھا اور وہاں سیکڑوں پولیس اہلکار اور فوجی تعینات کیے گئے تھے۔

مقتول علیان کے والد محمد نے اپنے مکان کی مسماری کے ردعمل میں کہا ہے کہ ''میرے پاس رہنے کے لیے اس کے سوا کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔فوج نے آنے کے بعد صرف یہ کہا تھا کہ ہم مکان مسمار کررہے ہیں۔آپ لوگ اس سے باہر نکل جائیں۔اس اقدام سے ایک باپ ،ایک ماں ،ایک بھائی ،ایک بہن اور چار بچوں کو اجتماعی سزا دی گئی ہے۔اس مکان میں رہ رہے تھے''۔

واضح رہے کہ انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی کابینہ نے نومبر میں یہود پر حملے کرنے والے فلسطینیوں کے مکانوں کو مسمار کرنے کی منظوری دی تھی اور کہا تھا کہ فلسطینیوں کو حملوں سے روکنے کے لیے یہ سب سے مؤثر اقدام ہے لیکن انسانی حقوق کی علمبردار عالمی تنظیموں نے اس ظالمانہ فیصلے کی مذمت کی ہے۔ان کا مؤقف ہے کہ اس کے ذریعے ایک فرد کے جرم کی سزا اس کے پورے خاندان کو دی جارہی ہے اور یہ بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔