.

’دہشت گردوں کی اجتماعی سزا سعودی تاریخ کا حصہ ہے‘

’مملکت میں 47 دہشت گردوں کی سزائے موت پہلا واقعہ نہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے دہشت گردی اور معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث دہشت گردوں کو دی گئی موت کی سزاؤں پر مخالفین کی تنقید بلا جواز ہے کیونکہ یہ پہلا موقع نہیں جب مملکت میں پچاس کے قریب دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا ہے۔

ماضی میں بھی متعدد مرتبہ سعودی عرب میں دہشت گردوں کو اسی انداز میں اجتماعی طور پر کیفرکردار تک پہنچایا جاتا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی یہ مسلسل روایت رہی ہے اور روایت پرعمل درآمد کرتے ہوئے انسانیت دشمن عناصر کو موت سے ہمکنار کیا جاتا رہا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سنہ 1979ء میں حرم مکی پر حملہ کرنے والے دہشت گرد مجرموں کے بھی اسی انداز میں سرقلم کئے گئے تھے۔

سعودی عدالتوں نے حرم مکی حملے کے حوالے سے مشہور جیھان کیس میں 61 مجرموں کو سزائے موت دی تھی۔ تمام مجرموں کو ایک ہی روز ملک کے پانچ مقامات پر فنا کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ دہشت گردی کے دیگر الزامات میں موت کی سز پانے والے 12 مجرموں کو ایک ہی روز موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔

دہشت گردی کے ناسور کے خلاف پرعزم سعودی قیادت نے ہفتے کے روز فوج داری عدالتوں کی توثیق کے بعد 47 دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر یہ ثابت کیا گیا تھا کہ ریاض دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پوری ہمت اور جرات کے ساتھ جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ سعودی عرب میں دو روز قبل دی گئی موت کی سزاؤں کے ملزمان کو آٹھ سال پہلے قاہم کردہ خصوصی فوجی عدالتوں کی جانب سے سزائیں سنائی گئی تھیں۔