.

اسرائیلی ہٹ دھرمی پر بہ طور احتجاج یواین مندوب مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے امن مندوب برائے انسانی حقوق نے فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کی جانب سے دورے کی اجازت نہ دینے جانے پر بہ طور پر احتجاج اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کی جانب سے فلسطین میں انسانی حقوق کی نگرانی اور اسرائیل کے منظم ریاستی جرائم کی تحقیقات کے لیے مقرر کردہ مندوب ماکاریم ویبیسونو کو خصوصی ایلچی مقرر کیا تھا۔ ویبیسونو کی تقرری کو ڈیڑھ سال گذر جانے کے باوجود اسرائیل کی جانب سے انہیں فلسطینی علاقوں غزہ کی پٹی، غرب اردن اور بیت المقدس میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

سبکدوش ہونے والے ’یو این‘ مندوب کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی بار اسرائیلی حکومت کو زبانی اور تحریری درخواست میں فلسطینی علاقوں میں دورے کی اجازت کے لیے درخواست دی مگر صہیونی انتظامیہ کی جانب سے اس کی ہر درخواست کو حقارت سے مسترد کر دیا گیا جس پر انہوں نے بہ طور احتجاج یہ عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ ویبیسونو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں فلسطین میں حقوق انسانی کے حوالے سے رپورٹس پیش کرتے رہے ہیں۔ ان کی پیش کردہ رپورٹس میں اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا ذمہ دار بھی قرار دیا جا چکا ہے۔ اپنے عہدے سے استعفے کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے مجھے اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کی اجازت نہیں دی گئی۔ میں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے حوالے سے فلسطین میں انسانی حقوق کی صورت حال کی جان کاری کے لیے جانے کی متعدد کوششیں کر چکا ہوں مگر اسرائیلی حکومت کے سخت رویے کے باعث میں اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

خیال رہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی سرگرمیوں کو کئی بار ہدف تنقید بناتے ہوئے اس پر فلسطینیوں کی طرف داری کا الزام عاید کر چکا ہے۔ انسانی حقوق کونسل کے 47 رکن ممالک ہیں مگراسرائیل کا کہنا ہے کہ مسٹر ویبیسونو جانب داری کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔

یو این مندوب کے استعفے کے بعد ایک اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مسٹر ویبیسونو کو اس لیے فلسطینی علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ وہ جانب داری کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں اور ان کی کاکردگی پر اسرائیل کو گہری تشویش لاحق ہے۔

خیال رہے کہ ویبیسونو انڈونیشیا کے سفارت کار ہیں انہیں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے 2014ء میں فلسطین میں انسانی حقوق کا مندوب مقرر کیا تھا۔ انہوں نے مارچ 2015ء میں کونسل میں پیش کردہ اپنی رپورٹ میں غزہ جنگ میں 1500 عام شہریوں کے قتل میں اسرائیل کو قصور وار قرار دیا تھا۔