.

’جب ایران میں حکومت الھیہ کے خلاف بغاوت کفر تھی‘

ایرانی ملائیت کے جرائم کا پردہ چاک کرنے والی کتاب سے چند اقتباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سنہ 1979ء میں آیت اللہ علی خمینی کی قیادت میں برپا ہونے والے انقلاب کے بعد پورا ملک ملاؤں کے ایسے نرغے میں آیا کہ اب تک ایرانی قوم اس کے پنجہ استبداد میں جکڑی ہوئی ہے۔

ایران میں ولایت فقیہ کے انقلاب کے بعد آزادی اظہار، بنیادی شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کا جس بے دردی سے گلا گھونٹا گیا معاصر تاریخ میں اس کی کہیں بھی نظیر نہیں ملتی۔ بہت کم لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی جان ومال اور عزت وآبرو کو داؤ پر لگا کر ایرانی ملائیت کے جرائم اور ان کی حماقتوں کا پردہ چاک کرنے کی ہمت کی۔ مگر ایسا کرنے والوں کو گرفتاریوں، جیلوں، اذیتوں اور جلا وطنی حتی کہ موت جیسے عذاب سہنے پڑے ہیں۔

ایسے ہمت افروز اور ولولہ انگیز لوگوں میں ایک نام ایک خاتون دانشور آذر نفیسی کا بھی ہے۔ نفیسی ایران میں شیعہ انقلاب سے قبل اور بعد میں مختلف جامعات میں درس وتدریس کے فرائض انجام دینے کے ساتھ اخبارات میں قومی سماجی ایشوز پر خامہ فرسائی بھی کرتی رہی ہیں۔ ایرانی ملاؤں کو آذر نفیسی کا جرات اظہار ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہ ہو سکا۔ چنانچہ اس کے خلاف بھی انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔

ایرانی ملا جب اسے جبرا مذہبی رنگ ڈھنگ اختیار کرنے اور حجاب کرانے میں ناکام رہے تو اسے ملک بدر کر دیا گیا۔ سنہ 1997ء کے بعد سے وہ امریکا میں وقتا فوقتا ایرانی رجیم کی خامیوں کی نشاندہی کرتی رہتی ہیں۔

آذر نفیسی نے سنہ 2014ء میں عربی زبان میں اپنی خود نوشت ’’کچھ باتیں جن پر میری زبان بند رہی‘‘ کے عنوان سے شائع کی۔ پانچ سو صفحات کو محیط خود نوشت میں نفیسی نے ایران میں ما بعد اسلامی انقلاب ان واقعات کا تذکرہ کیا ہے جن پر ایران کے اندر رہتے ہوئے بات کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔

اپنی اس خود نوشت میں ایرانی خاتون دانشور پروفیسر آذر نفیسی رقم طراز ہیں کہ ولایت فقیہ کے انقلاب کے بانی آیت اللہ علی خامنہ ای سنہ 1979ء میں جب ایران تشریف لائے تو انہوں نے اپنے برپا کردہ انقلاب کو ’حکومت الہیہ‘ کا نام دیا اور خود کو ’خدا کا نائب‘ قرار دیا۔ حکومت الہیہ کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کو کفر اور اس کی سزا موت قرار دی تھی۔

سنہ1997ء سے امریکا میں اپنے خاندان کے ہمراہ مقیم نفیسی مزید لکھتی ہیں کہ اہل عرب کے حوالے سے ایرانی حکمرانوں کے ہاں پائے جانے والے خیالات میں نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں شیعہ ملائیت کے پرچارک کرنے والے عناصر عرب قوم کو ’’غاصب‘‘ اور ’’بربر‘‘ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عربوں نے ایران کی فتح کے دوران بدترین ظلم اور بربریت کا مظاہرہ کیا تھا جس پرعربوں کو ’بربر‘ کا لقب دے کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی جاتی ہے۔

نفیسی لکھتی ہیں کہ ما بعد انقلاب بادشاہ کے ساتھ وابستہ رہنے والے عناصر کو چن چن کر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ پچھلی حکومت کے دوران سرکاری ملازم کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ حتیٰ کہ خواتین کو گھروں کے اندر محصور کر دیا گیا اور ان سے ووٹ کا حق بھی سلب کر لیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نفیسی کی خود نوشت میں بیان کردہ واقعات ان کے ذاتی خیالات اور تجربات نہیں بلکہ ناقابل تردید حقائق ہیں جنہیں کسی صورت میں جھٹلایا نہیں جا سکتا ہے۔ یہ حقائق نہ صرف نفیسی نے بیان کیے ہیں بلکہ کئی دیگر مصفنین بھی ان حقائق کی نشاندہی کر چکے ہیں۔