.

ایران کے ساتھ بحران پر جی سی سی آئندہ ہفتے غور کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزراء خارجہ کا ایک ہنگامی اجلاس آئندہ ہفتے کے روز ہو رہا ہے، جس میں سعودی سفارت خانے پر ایرانی حملے کو زیر بحث لایا جائے گا۔

واضح رہے کہ ریاض میں یہ اجلاس، اسی موضوع پر عرب لیگ کے طے شدہ خصوصی اجلاس سے ایک روز قبل منعقد کیا جا رہا ہے۔ خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل کے مطابق رکن ممالک کے وزراء خارجہ استثنائی طور پر ایران کے ساتھ بھڑکے ہوئے بحران پر بات چیت کے لیے جمع ہوں گے۔

خلیج تعاون کونسل کے اجلاس کا اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب کہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ردعمل سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں آخری موقف منامہ (بحرین) کی جانب سے سامنے آیا جس نے ایران آنے جانے والی تمام پروازیں روک دینے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل کویت نے تہران میں اپنے سفیر کو واپس بلانے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک میں ایرانی سفیر کو طلب کر کے احتجاجی یادداشت بھی حوالے کی۔ اس طرح کویت بھی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، سوڈان اور بحرین کی صف میں شامل ہو گیا جنہوں نے ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے ہیں یا تعلقات کی سطح کم کر لی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر چین، جرمنی، پاکستان اور ترکی ان تمام ممالک نے سعودی عرب اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ بات چیت کے ذریعے حالیہ بحران کو ختم کریں۔ اس سلسلے میں اسلام آباد اور انقرہ کی حکومتوں نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی بھی پیش کش کی ہے۔

دوسری جانب شامی اپوزیشن کے نمائندوں سے ملاقات کے لیے ریاض پہنچنے والے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسٹیفن ڈی مستورا نے سعودی عرب کے حوالے سے اس یقین دہانی کا ذکر کیا ہے کہ ایران کے ساتھ اختلاف، شام میں سیاسی حل کے مذاکرات پر ہرگز اثر انداز نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ اس اندیشے کا اظہار اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سمیت متعدد اطراف کی جانب سے کیا گیا تھا۔