.

داعش کا 'وزیر دفاع' عراقی فضائیہ کے حملے میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"وار میڈیا سیل" کے اعلان کے مطابق عراق کے صوبے الانبار کے علاقے حدیثہ میں عراقی فضائیہ کی کارروائی میں "داعش کے جنگی وزیر" کے نام سے معروف کمانڈر اپنے تین دیگر ساتھیوں سمیت مارا گیا۔

العربیہ نیٹ کو موصول ہونے والے بیان میں میڈیا سیل کا کہنا ہے کہ عراقی طیاروں نے داعشی وزیر کو حدیثہ کے علاقے بروانہ میں نشانہ بنایا۔

الانبار صوبے میں باوثوق اخباری ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق داعش کے وزیر دفاع کے طور پر معروف مقتول کا نام ثامر محمد مطلوب المحلاوی ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ "ابو معاذ" کی عرفیت رکھنے والا یہ کمانڈر حدیثہ شہر پر داعش تنظیم کے عسکری حملے کی سربراہی کر رہا تھا۔ اسے داعش کا ایک اہم ترین کمانڈر شمار کیا جاتا ہے جو الزرقاوی اور ابو عمر البغدادی کے ساتھ مل کر کام کر چکا ہے۔ ابو عمر البغدادی کی جانب سے ہی ابو معاذ کو حدیثہ شہر پر حملے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

عراقی فضائیہ کے حملے میں عراق کے مغربی علاقے میں داعش کا ایک اہم لیڈر ہدوان الراوی بھی مارا گیا۔

عراقی اہل کاروں کے اعلان کے مطابق داعش نے الانبار صوبے کے علاقے حدیثہ میں بروانہ پر جوابی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں مشترکہ عراقی افواج کے ساتھ مل کر لڑنے والے 25 مسلح قبائلی جنجگو ہلاک ہو گئے۔

متعدد اطراف سے کیے جانے والے حملے کے باوجود داعش تنظیم بروانہ کا کنٹرول واپس لینے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ عراقی فوج نے گزشتہ روز دھاوا بول کر بروانہ کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ عراقی فوج کی اس پیش قدمی کو داعش کے خلاف ایک اہم کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔