.

دہشت گرد ایرانی مفادات پرحملوں سے گریزاں کیوں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دہشت گردی کےجُرم میں شیعہ مسلک کے پیروکارسعودی مبلغ نمر النمر کی سزائے موت پر ایران کے واویلے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ایران کی جانب سے دہشت گردوں کو پھانسی سزائیں دینےپر اس شدت کے ساتھ مخالفت کیوں کی جاتی ہے۔ نیز ایران کا القاعدہ جیسی تنظیموں کے ساتھ کیا تعلق ہے کہ یہ گروپ ایرانی مفادات پرحملے نہیں کرتے؟۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دہشت گرد گروپوں کے ایران کے ساتھ تعلقات کا سوال اتنا پیچیدہ بھی نہیں کیونکہ اس کا آسان اور سادہ جواب بھی موجود ہے۔ پچھلے کئی عشروں سے القاعدہ اور ایران کے درمیان روابط موجود رہے ہیں اور دونوں میں سلسلہ جنبانی آج بھی قائم و دائم ہے۔

نظریات اور عقاید کے بعد کے باوجود ایران نے القاعدہ کے لیے اپنے دروازے کھول کر اسے اپنے ہاں پناہ دی۔ ایک اندازے کے مطابق ایران نے 500 القاعدہ جنگجوؤں کو اپنے ہاں پناہ دی۔ سنہ 2001ء میں نائن الیون کے واقعے اور افغانستان پرامریکی حملے کے بعد ایران القاعدہ کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوا۔

یہی وہ بنیادی سبب ہے کہ القاعدہ نے آج تک ایران کے اندر اور باہر تہران کے مفادات کو نشانہ نہیں بنایا۔ القاعدہ نے نہ صرف خود ایرانی مفادات کا تحفظ کیا بلکہ اپنی ہم خیال تنظیموں کو بھی ایرانی مفادات کو نہ چھیڑنے کی ہدایت کی۔ داعش کے ترجمان ابو محمد العدنانی نے’’سوری القاعدہ امیر‘‘ کے عنوان سے اپنے ایک صوتی پیغام میں انکشاف کیا تھا کہ القاعدہ اور ایران کے درمیان کس درجے کے تعلقات قائم ہیں۔

العدنانی کا یہ پیغام مئی 2014ء میں سامنے آیا جس میں انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ القاعدہ کی سفارش پرداعش نے ایرانی مفادات پرحملوں سے گریز کی پالیسی اپنائی ہے کیونکہ ایرانی مفادات پرحملوں سے گریز القاعدہ کے مفاد میں ہے۔

معاصر عزیز’’الشرق الاوسط‘‘ کے مطابق ایران نے دسیوں القاعدہ کمانڈروں کو اپنے ہاں پناہ دی تھی جن میں القاعدہ کے سیکیورٹی امور کے انچارج محمد صلاح الدین المعروف سیف العدل، اسامہ بن لادن کے تیسرے بیٹے سعد بن لادن، بن لادن کے داماد اور القاعدہ کے ترجمان کویتی نژاد سلیمان جاسم بوغیث، القاعدہ کے شرعی امور کے انچارج محفوظ الوالد المعروف ابو حفص الموریتانی، اسامہ کے مقرب مصطفیٰ حامد المعروف ابو الولید المصری، لیبیا میں القاعدہ کے کمانڈر علی عمار الرقیعی المعروف ابو اللیث اللیبی، القاعدہ جنگجوؤں کو جعلی ویزے جاری کرنے کے ذمہ دار عبداللہ محمد رجب عبدالرحمان المعروف ابو الخیر اور القاعدہ کی مجلس شوریٰ کے رکن محمد المصری کے نام خاص طورپر مشہور ہیں۔