.

شام میں مزید دو ایرانی افسر اور 8 افغان جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ چند دنوں کے دوران شام کے شمالی شہرحلب میں باغیوں سے لڑائی کے دوران مزید دو ایرانی فوجی افسر اور آٹھ افغان جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ’’مشرق‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ چند دن پہلے حلب کے نواحی علاقے میں محاذ جنگ پر مارے جانے والے دو ایرانی فوجی افسروں کی شناخت کیٹپن عبداللہ قربانی اور میثم فولادی کے نام سے ہوئی ہے۔ عبداللہ قربانی پاسداران انقلاب کی نیول فورس میں شامل تھے جن کا آبائی تعلق وسطی ایران کے علاقے فارس سے بتایا جاتا ہے جب کہ میثم فولادی مغربی ایران میں کرمان شاہ گورنری میں پاسداران انقلاب کے ایک اہم عہدیدار تھے۔

ایرانی مسلح افواج کی ترجمان’’دفاع پریس‘‘ ویب سائٹ کے مطابق حالیہ ایام میں شام کے حلب شہر میں آٹھ افغان جنگجو بھی مارے گئے ہیں جن کی شناخت احمد جعفر ، حسن حیدری، حسن رحیمی، علی مرادی، حسین فدائی، جواد حسنی، محمد جواد رضائی اور سید محمد جاوید حسینی کے ناموں سے کی گئی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق حسین فدائی ذوالفقار کے لقب سے مشہور تھے جو شام میں افغان جنگجوؤں کے اہم کمانڈر تھے۔ تمام مقتولین کا تعلق ’’فاطمیون‘‘ ملیشیا سے تھا۔ حسین فدائی ایک راکٹ حملے میں زخمی ہونے کے بعد ہلاک ہو گئے تھے۔

خیال رہے کہ شام میں ایرانی فوج اور اس کی حامی ملیشیا کو حالیہ مہینوں میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پچھلے تین ماہ کے دوران شام میں ایران کے 250 سینیر فوجی افسر اور سیکڑوں اجرتی قاتل ہلاک ہوچکے ہیں۔ اجرتی قاتلوں میں پاکستان اور افغانستان کے جنگجو بھی شامل ہیں۔

پچھلے سال جون میں ایرانی خبر رساں اداروں نے اپنی رپورٹس میں اعتراف کیا تھا کہ شام میں لڑائی کے دوران 400 ایرانی فوجی اور افسر ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان اعداد وشمار کے مطابق اب تک 650 ایرانی فوجی شام میں مارے جا چکے ہیں جب کہ غیر سرکاری تنظیموں سے وابستہ ہلاک ہونے والے ایرانی، پاکستانی اور افغان جنگجوؤں کی تعداد 1500 سے تجاوز کرگئی ہے۔