.

اسد رجیم محصورین مضایا کو امداد فراہم کرنے پر تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شام میں صد بشارالاسد کی حکومت نے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے مضایا سمیت تین مقامات پر کئی ماہ سے محصور خاندانوں تک امداد پہنچانے کی اجازت دینے پر آمادی ظاہر کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی حکومت نے مضایا، الفوعہ اور کفریا کے مقامات میں محصور شامی خاندانوں تک جلد از جلد امدادی قافلوں کو رسائی دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے شامی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ متاثرین کو امداد کی فراہمی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں ختم کرے تاکہ قحط کا شکار سیکڑوں خاندانوں کی زندگیاں بچانے میں ان کی مدد کی جا سکے۔

خیال رہے کہ مضایا اور دوسرے شامی دیہات پر شامی فوج اور اس کی حامی لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے سات ماہ پیشتر قبضہ کر لیا تھا۔ شامی فوج اور حزب اللہ کی جانب سے ان دیہاتوں کا محاصرہ کر کے وہاں پر مقیم خواتین اور بچوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان علاقوں میں شامی باغیوں کے رشتہ دار اور دیگر عزیز و اقارب میم ہیں۔ صرف مضایا میں مقیم شہریوں کی تعداد 40 ہزار سے زیادہ ہے۔

حزب اللہ اور شامی فوج کی جانب سے کی گئی ناکہ بندی کے نتیجے میں مقامی آبادی بدترین قحط کا سامنا کر رہی ہے۔ بچے اور مریض بھوک اور بیماریوں سے مر رہے ہیں مگر شامی حکومت انہیں بچانے کے بجائے مزید انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔ حال ہی میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے المضایا ، الفوعہ اور الکفریا میں محصور شامی شہریوں کی زندگیاں بچانے میں ان کی فوری مدد کا مطالبہ کیا تھا۔