.

الرقہ: داعشی جنگجو نے ماں کو موت کے گھاٹ اتار دیا

ماں نے تنظیم چھوڑ کر شہر سے چلے جانے کا مطالبہ کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام میں انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے ادارے، آبزرویٹری نے #الرقہ شہر میں جمعرات کے روز شدت پسند تنظیم #داعش کی جانب سے ایک شامی خاتون کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کی تصدیق کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق خاتون کی عمر 40 سے 50 سال کے درمیان تھی اور اس کا تعلق الطبقہ شہر سے تھا۔ خاتون کے بیٹے نے الرقہ شہر میں پوسٹ آفس (جس میں اس کی ماں ملازمت کرتی تھی) کی عمارت کے نزدیک ہی سیکڑوں ہم وطنوں کے سامنے اپنی ماں کو قتل کردیا۔

تمام ذرائع نے رصدگاہ کے کارکنوں کو اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ماں نے اپنے بیٹے سے داعش تنظیم چھوڑدینے اور شہر سے کوچ کرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔ بیٹے نے تنظیم کو اس بات سے آگاہ کردیا جس کے بعد ماں کو مرتد ہونے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ اور پھر 20 سالہ بیٹے نے شہر کے لوگوں کے سامنے اپنی ماں کو موت کے منہ میں پہنچا کر ہی دم لیا۔

شدت پسند تنظیم داعش کا 2014 کے آغاز سے الرقہ شہر پر کنٹرول ہے اور یہ شام میں اس تنظیم کا اہم ترین گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ تنظیم کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے یا تنظیم کی مخالفت کرنے والوں کو وحشیانہ طریقے سے موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے یا پھر غیر انسانی سزاؤں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ ہیبت ناک مناظر دیکھ کر مقامی لوگوں کے دلوں میں خوف ودہشت نے گھر کرلیا ہے۔