.

عراقی شیعہ ملک میں بڑھتے ہوئے ایرانی رسوخ پر مشوش

یو این اورعرب ممالک عراق کو ایرانی اکٹوپس سے نجات دلائیں: شہریوں کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"عراق میں شیعہ فرقے کی اکثریت اپنے ملک میں بڑھتے ہوئے ایرانی اثرورسوخ کے حوالے سے تشویش رکھتی ہے، ساتھ ہی عراقی سیاست دانوں کی جانب سے ملک کے مفادات کو ایران کے ساتھ جوڑنے کو بھی مسترد کردیا گیا ہے۔"

اس امر کا اظہارایک مؤقر ادارے تھنک ٹینک ہاؤس کی جانب سے کرائے گئے حالیہ سروے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔ تازہ ترین سروے کے مطابق شیعہ عراقیوں میں 78 فی صد نے ایرانی نظام حکومت پر عراق میں فرقہ وارانہ لڑائی بھڑکانے کا الزام لگایا ہے۔ ساتھ ہی 60 فی صد شیعہ عراقیوں نے ایران کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی لانے پر زور دیا ہے، جب کہ 30 فی صد نے اس بارے میں کسی واضح رائے کا اظہار نہیں کیا۔

سروے میں 720 شیعہ عراقی مرد اور خواتین کو شریک کیا گیا۔ ان کا تعلق 14 مختلف شہروں اور قصبوں سے تھا جو شیعہ اکثریتی آبادی کے حوالے سے معروف ہیں۔ عالمی بنک کے اعداد وشمار کے اندازے کے مطابق عراق کی کل آبادی میں 65 فی صد شیعہ ہیں۔

گزشتہ سال دسمبر کے آغاز میں ہونے والے سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراق کے 77 فی صد شیعہ اپنے ملک میں ایرانی فوجی وجود پر راضی نہیں ہیں، جب کہ 88 فی صد عراقی شیعہ ایران سے تعلق رکھنے والی اپنی مذہبی قیادت سے خوش نہیں۔

اس کے علاوہ 67 فی صد شیعہ عراقیوں نے اپنے ملک کو مسلکی طور پر ایران کا حصہ شمار کرنے کو مسترد کردیا ہے جب کہ 50 فی صد کے قریب تو علمی اور روحانی مرکز کو نجف سے قم منتقل کرنے کے حوالے سے کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔ تقریبا 60 فی صد نے ایران کے ساتھ حالیہ تعلقات کی نوعیت کو مسترد کردیا ہے۔

ان نقطہ ہائے نظر کی وجوہات کے بارے میں پوچھے گئے ایک کھلے سوال کے جواب میں سروے کے شرکاء کی اکثریت نے ایران کے حوالے سے اور تہران کے ساتھ عراق کے مفادات کو جوڑنے والے سیاست دانوں کے حوالے سے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

سروے میں رائے دینے والے افراد نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی تشکیل نو کی اہمیت پر زور دیا جو پرامن طریقوں سے ہو اور اس کی ترجیحات میں بنیادی طور پر عراق کے مفاد کو رکھا جائے۔

علاوہ ازیں بعض رائے دہندگان نے اقوام متحدہ اور عرب ممالک سے اپیل کی کہ عراق کو بقول ان کے ایرانی اخبوط (آکٹوپس) سے نجات دلائی جائے۔