.

یمن نے یو این مندوب کو 'ناپسندیدہ شخصیت' قرار دے دیا

ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق پر باغیوں کے جرائم کی پردہ پوشی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی حکومت نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے انسانی حقوق جارج ابو الضعف کو ناپسندیدہ اور باغیوں کے لیے جانب دار شخصیت قرار دیتے ہوئے ملک سے نکل جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں یمنی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جارج کو دراصل اس بات کی سزا دی جا رہی ہے کہ انہوں نے اتحادی فوج کے حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت پر عالمی ادارے کی توجہ دلائی تھی جس پر صنعاء حکومت نے ناراض ہو کر انہیں ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمنی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے مندوب برائے انسانی حقوق یمن میں اپنی جانب دارانہ ساکھ قائم رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کی موجودگی میں حوثی باغی اور منحرف صدرعلی عبداللہ صالح کی حامی ملیشیا انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی مرتکب ہو رہی ہیں مگر یو این مندوب اس پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ایسی شخصیت کو صنعاء میں رہنے کا اب کوئی حق نہیں رہا ہے وہ جلد از جلد دارلحکومت چھوڑ دیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے مندوب برائے انسانی حقوق کے بیانات اور رپورٹس میں بھی جانب داری کی جھلک نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے جنیوا میں پچھلے دنوں ہونے والے اجلاسوں میں بھی حوثیوں اور علی صالح کے حامی باغیوں کے لیے جو لب ولہجہ اختیار کیا ہے وہ اس کے عہدے اور منصب کے شایان شان نہیں تھا۔

یمنی وزیر برائے انسانی حقوق عزالدین الاصبحی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کو اقوام متحدہ کے مندوب برائے انسانی حقوق کے طرز عمل پر گہرا افسوس ہے۔ ان کے بیانات یمن میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ہائی کمیشن نے سخت مایوس کیا ہے۔ یمن کے عوام جس طرح کے مصائب اور بحرانوں کا شکار ہیں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ہائی کمیشن سے اس کا اظہار نہیں ہو رہا ہے وہ باغیوں کے لیے جانب داری کی پالیسی پرعمل پیراہیں۔ حوثیوں کے جنگی جرائم پران کی خاموشی اس امر کا ثبوت ہے کہ وہ انسانی حقوق ہائی کمیشن جانب دار ہوچکا ہے۔

یمنی وزیر کا کہنا ہے کہ ملک میں پچھلے کچھ عرصے کے دوران خاص طوپر تعز کے علاقے میں باغیوں نے وحشیانہ جنگی جرائم کا ارتکاب کیا اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا مگر یو این مندوب اس پر مسلسل خاموش تماشائی بنے رہے ہیں۔ باغیوں نے تعز میں اور دوسرے شہروں میں 1560 بے گناہ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا اور1400 سے زیادہ سیاسی کارکنوں، میڈیا کے نمائندوں اور انسانی حقوق کے رضاکاروں کو بھی اغوا کر کے انہیں ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا۔