.

بغداد دھماکوں سے لرز گیا، کم ازکم 51 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں مسلح افراد کے ایک شاپنگ مال پر حملے میں 18 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوگئے ہیں۔ عراقی سکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ مال پر دھاوا بولنے والے حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

عراقی پولیس کے ایک سینیر افسر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کا مال پر مکمل کنٹرول ہوچکا ہے، حملہ کرنے والے مسلح افراد کو ہلاک کردیا گیا ہے اور وہاں یرغمال بنائے گئے افراد کو بھی رہا کرا لیا گیا ہے۔

سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) نے آن لائن جاری کردہ ایک بیان میں اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔سوموار کو چار مسلح افراد عراقی دارالحکومت کے مشرق میں واقع علاقے بغداد الجدید میں جواہر مال کے باہر کار بم دھماکے کے بعد اندر داخل ہوگئے تھے اور انھوں نے وہاں موجود بعض لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

اس کے علاوہ دو اور دھماکے بغداد کے علاقے مقدادیہ میں ہوئے جہاں پر طبی ذرائع کے مطابق کم از کم 23 افراد ہلاک جبکہ 51 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ بغداد کے جنوبی حصے میں ایک اور دھماکے کے نتیجے میں سات افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے۔

ذر ائع کو یہ واضح نہیں ہوا تھا کہ آیا مال پر حملہ کرنے والے کسی حملہ آور نے خودکش جیکٹ بھی پہن رکھی تھی یا نہیں۔ واضح رہے کہ داعش کے جنگجو بغداد اور عراق کے دوسرے علاقوں میں اہل تشیع کی آبادی والےعلاقوں میں حملے کرتے رہتے ہیں۔

قبل ازیں بغداد سے شمال مشرق میں واقع شہر بعقوبہ میں ایک ریستوراں کے نزدیک کار بم دھماکے میں تین افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔ داعش نے ایک بیان میں اس حملے کی بھی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔